உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غلام نبی آزاد نے کہا- کشمیر کے لوگوں کا شہری ہلاکتوں سے کوئی لینا دینا نہیں

    غلام نبی آزاد نے کہا- کشمیر کے لوگوں کا شہری ہلاکتوں سے کوئی لینا دینا نہیں

    غلام نبی آزاد نے کہا- کشمیر کے لوگوں کا شہری ہلاکتوں سے کوئی لینا دینا نہیں

    سینیئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام لوگ شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں کا شہری ہلاکتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ جس طرح ملک کے لوگ اس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ کشمیر کے لوگ اس کو غلط مانتے ہیں

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: سینیئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام لوگ شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں کا شہری ہلاکتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ جس طرح ملک کے لوگ اس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ کشمیر کے لوگ اس کو غلط مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارنے والوں کا طریقہ بدل گیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ایک آدھ مارنے والوں کو پکڑا جائے تاکہ ان کا طریقہ کار معلوم ہو سکے۔

      ان کا کہنا تھا کہ وادی میں نشانہ وار ہلاکتوں کے چلتے موٹر سائیکل چلانے والوں کو پریشان کرنا بھی قابل مذمت ہے۔ موصوف کانگریس لیڈر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا ہے۔ انہوں نے کہا: 'کشمیر میں شہری ہلاکتوں کا مسئلہ تشویش ناک ہے مارنے والوں کا طریقہ بدل گیا ہے ایک آدھ مارنے والوں کو پکڑنا ضروری ہے تاکہ ان کا طریقہ کار معلوم ہو سکے'۔ ان کا کہنا تھا: 'میں گذشتہ چار دنوں کے دوران کشمیر کے دس اضلاع اور ضلع رام بن میں قریب 70 وفود سے ملا، اچھی بات یہ ہے کہ سب لوگ ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں اور مارنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں'۔
      انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کا یہاں ہو رہی شہری ہلاکتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ جس طرح ملک کے لوگ ان ہلاکتوں کو غلط سمجھتے ہیں اسی طرح کشمیر کے لوگ بھی ان ہلاکتوں کو کئی گنا زیادہ غلط مانتے ہیں۔ مسٹر آزاد نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقی کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے بلکہ غریبی، بے روزگاری اور مہنگائی میں کافی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کاموں کے لئے درکار باجری، ریت، اینٹوں کی بھی قیمتیں کئی گناہ بڑھ گئی ہیں جس سے لوگوں کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
      ان کا کہنا تھا کہ جب تک جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس نہیں دیا جائے گا اور یہاں عوامی سرکار منتخب نہیں کی جائے گی تب تک یہاں ترقی کا ہونا ممکن نہیں ہے۔ موصوف لیڈر نے کہا کہ ہم ترقی کے لئے ملی ٹنسی کے خاتمے کا انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: 'ہم انتظار نہیں کر سکتے ہیں کہ پہلے ملی ٹنسی ختم ہونی چاہئے پھر ترقی کریں گے یہ غلط سوچ ہے، یہ دونوں چیزیں گذشتہ تیس برسوں سے چل رہی ہیں ملی ٹنسی کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے اور ترقی بھی ہو رہی ہے'۔

      غلام نبی آزاد نے کہا کہ نشانہ وار ہلاکتوں کے چلتے موٹر سائیکل سواروں کو پریشان کرنا بھی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل کی مہنگائی کی وجہ سے لوگ گاڑیوں کی بجائے موٹر سائیکلوں پر ہی سفر کرتے ہیں لیکن ان کو بند کرنا، موٹر سائیکل ضبط کرنا قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے لوگوں میں سرکار کے تئیں غصہ بڑھ جاتا ہے۔ مسٹر آزاد نے کہا کہ پہلے جب عام لوگوں یا لیڈروں کو مارا جاتا تھا اس کے لئے یا تو گرینیڈ کا استعمال کیا جاتا تھا یا بارودی سرنگ کا اور بعد میں ان کو پستول سے نزدیکی سے مارنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب جو طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے یہ میرے خیال میں ایک نیا طریقہ ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: