உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غلام نبی آزاد جموں۔کشمیر میں بنائیں گے اپنی پارٹی، کانگریس کے سابق MLA اور وزیر کا بیان

    Youtube Video

    جموں و کشمیر کے سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جی ایم سروری نے آزاد سے ملاقات کے بعد ان کے بارے میں بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ جلد ہی اپنی ایک نئی سیاسی پارٹی بنائیں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ آزاد نے پانچ صفحات کا استعفیٰ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کو بھیجا ہے۔ حالانکہ اس دوران یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ آزاد اپنی نئی سیاسی پارٹی بنائیں گے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جی ایم سروری نے آزاد سے ملاقات کے بعد ان کے  بارے میں بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ جلد ہی اپنی ایک نئی سیاسی پارٹی بنائیں گے۔ ان کے کئی حامیوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ آزاد بڑے لیڈر رہے ہیں، انھوں نے اپنے 50 سال کانگریس میں دیے۔ دراصل کانگریس کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے غلام نبی آزاد نے اپنے استعفیٰ میں کہا ہے کہ انہوں نے کانگریس سے تمام تعلقات توڑ لیے ہیں۔

    وہیں جس میں پانچوں سابق ایم ایل اے نے بھی استعفیٰ سونپا ہے۔ گلزار وانی حاجی عبدالرشید محمد امین بھٹ نے بھی غلام نبی آزاد کو استعفیٰ دے دیا ہے۔

    حال ہی میں، انہوں نے پارٹی کی طرف سے نامزد کیے جانے کے بعد جموں و کشمیر مہم کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیے نظر انداز کیے جانے کے بعد آزاد ناخوش تھے۔ وہ پارٹی کے G-23 گروپ کے سرکردہ لیڈران میں سے ایک تھے، جنہوں نے پارٹی میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

    واضح ہو کہ غلام نبی آزاد طویل عرصے سے کانگریس سے ناراض تھے۔ وہ کانگریس کے ناراض لیڈروں کے G-23 گروپ میں بھی شامل تھے۔ G-23 گروپ مسلسل کانگریس میں کئی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر کپل سبل نے بھی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہیں ایس پی نے راجیہ سبھا بھی بھیجا ہے۔

    غلام نبی آزاد اور کانگریس کے درمیان کئی مسائل پر اختلافات رہے ہیں۔ چاہے وہ صدر کے انتخاب کو لیکر بات ہو یا کچھ اور مسائل یا پھر پارٹی کے موقف پر۔ غلام نبی آزاد بھی اس G23 کا حصہ ہیں جو پارٹی میں بہت سی بڑی تبدیلیوں کی وکالت کرتے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: Ghulam Nabi Azad نے چھوڑا کانگریس کا ساتھ، 5صفحات پر مشتمل خط لکھ کر دے دیا استعفیٰ

    غلام نبی آزاد کی ناراضگی اس وقت سامنے آئی تھی جب انہوں نے انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سونیا گاندھی چاہتی تھیں کہ کانگریس آزاد کی قیادت میں جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات لڑے۔ اسی لیے انہیں انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔ لیکن غلام نبی نے عہدہ ملنے کے چند گھنٹوں بعد ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی سیاسی حلقوں میں ان کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

    بیوی کی موت کے بعد شوہر نے دفنائی گھر میں ہی لاش اور کرتا رہا کچھ ایسا کہ پولیس بھی رہ گئی

    حالیہ برسوں میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کانگریس کے کئی چہرے اپنی ہی پارٹی کو الوداع کہ رہے ہیں۔ کئی نوجوان اور مقبول لیڈروں نے تو اپنے مستقبل کو لے کر استعفیٰ دے دیا۔ اس کے برعکس کچھ بڑے لیڈران اپنی ناراضگی کے باوجود وزیر یا ایم پی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    تیس سالہ جیویر شیرگل (Jaiveer Shergill) ایک تازہ ترین نام ہے جنھوں نے پارٹی چھوڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں فیصلہ سازی مخصوص گروہ سے متاثر ہے، یہ مسئلہ کانگریس پارٹی کو طویل عرصے سے بیمار کررہا ہے۔ اس مسئلہ کو ماضی میں کئی پارٹی رہنماؤں نے اٹھایا ہے۔ تاہم شیرگل نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

    ہاردک پٹیل
    ہاردک پٹیل (Hardik Patel) 2015 کے پاٹیدار کوٹہ احتجاج کے ایک چہرے کے طور پر ابھرے اور کچھ سیاسی پنڈتوں نے انھیں گجرات کی سیاست کے مستقبل کے طور پر پیش کیا۔ تاہم احتجاج کے بعد وہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاج کے لیے ایک بڑا ہجوم اکٹھا نہیں کر سکے اور تب سے سیاسی حلقوں میں مشہور رہے۔ انہوں نے لوک سبھا انتخابات سے قبل 2019 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی لیکن وہ اپنی پارٹی کے لیے کوئی فرق کرنے میں ناکام رہے کیونکہ بی جے پی نے گجرات میں تمام پارلیمانی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔

    جیوتیرادتیہ سندھیا
    جیوترادتیہ سندھیا (Jyotiraditya Scindia) نے 2018 میں مدھیہ پردیش میں کانگریس کو اقتدار میں واپس آنے میں مدد کی، پارٹی کے ساتھ اپنی 18 سالہ وابستگی ختم کر دی اور مارچ 2020 میں ریاست میں پارٹی قیادت کے سامنے استعفیٰ دے دیا۔ سندھیا کے وفادار کم از کم 20 ایم ایل ایز نے اپنی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دی جس کے نتیجے میں کمل ناتھ حکومت گر گئی۔

    بعد میں سندھیا نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ 2021 میں کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ انہیں شہری ہوا بازی کے وزیر کا قلمدان دیا گیا۔ یہ عہدہ ان کے والد اور آنجہانی کانگریس لیڈر مادھو راؤ سندھیا بھی 1991 سے 1993 تک رہے تھے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے آر سی پی سنگھ کی جگہ سٹیل کی وزارت کا اضافی چارج سنبھالا۔

    جتن پرساد:
    جون 2021 میں پرساد نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ کا حصہ بن گئے۔ جتن پرساد (Jitin Prasada) اتر پردیش میں کانگریس کا ایک نمایاں برہمن چہرہ تھا۔ یوتھ کانگریس سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے پرساد پہلی بار 2004 میں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

    وہ مرکز میں یو پی اے کے دور حکومت میں وزیر تھے۔ کانگریس نے انہیں 2021 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا انچارج مقرر کیا۔ تاہم پارٹی کو مغربی بنگال میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: