ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر سے اچھی خبر: فوج کے ٹاپ کمانڈر نے کہا- وادی میں دہشت گردوں کی طاقت دہائی میں سب سے کم

نیوز ایجنسی اے این آئی میں بات چیت میں لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا، ’2020 میں دہشت گردوں کی تقرری پوری طرح کنٹرول میں ہے۔ خاص طور پر 2018 کے موازنہ میں’۔ انہوں نے اطلاع دی کہ وادی میں دہشت گردوں کی موجودہ تعداد 217 ہے، جو کہ گزشتہ دہائی میں سب سے کم ہے’۔

  • Share this:
جموں وکشمیر سے اچھی خبر: فوج کے ٹاپ کمانڈر نے کہا- وادی میں دہشت گردوں کی طاقت دہائی میں سب سے کم
فوج کے ٹاپ کمانڈر نے کہا- وادی میں دہشت گردوں کی طاقت دہائی میں سب سے کم

نئی دہلی: جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) میں ہندوستان دہشت گردی سے جدوجہد کر رہا ہے۔ اسی درمیان کشمیر میں چنار کارپس (Chinar Corps) میں جنرل آفیسر ان کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو (Lieutenant General BS Raju) نے راحت دینے والی خبر سنائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران وادی میں دہشت گردوں کی تعداد ابھی سب سے کم ہے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان پر کشمیر وادی (Kashmir Valley) میں الگ الگ طریقوں سے دہشت پھیلانے کے الزام لگائے ہیں۔


نیوز ایجنسی اے این آئی میں بات چیت میں لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا، ’2020 میں دہشت گردوں کی تقرری پوری طرح کنٹرول میں ہے۔ خاص طور پر 2018 کے موازنہ میں’۔ انہوں نے اطلاع دی کہ وادی میں دہشت گردوں کی موجودہ تعداد 217 ہے، جو کہ گزشتہ دہائی میں سب سے کم ہے’۔ خاص بات یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوج نے بھی اپنے ایس او پی میں تبدیلی کئے ہیں۔ کچھ دونوں پہلے آئی خبروں کے مطابق، فوج دہشت گردوں کو مارنے کے بجائے انہیں سرینڈر کرنے پر زور دے رہی ہے۔


پاکستان پر الزام


لیفٹیننٹ جنرل راجو نے پاکستان پر ہندوستان میں دراندازی اور نوجوانوں کو دہشت گرد کی طرف دھکیلنے کے الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان الگ - الگ طریقوں سے نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف لے جانے والا بنا ہوا ہے۔ پاکستان نے پڑھائی کے لئے کئی نوجوانوں کو متوجہ کیا، لیکن راستے سے الگ ہٹ کر انہیں اپنی باتیں سمجھائیں’۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ کو ٹرین کیا گیا اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرحد کے ذریعہ دراندازی کرائی گئی۔

خاص بات ہے کہ گزشتہ کچھ وقت میں ہندوستانی فوج پر دہشت گردوں کے حملے میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں، کچھ دنوں پہلے فوج نے ریاست میں ایک سرنگ کی تلاش کی تھی۔ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان ان سرنگوں کا استعمال ہندوستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کرنے کے لئے کر رہا ہے۔ فوجی افسران نے الزام لگائے ’پاکستان کے دہشت گردی ہمارے سیکورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو وادی میں اپنا نشانہ بناتے ہیں’۔

ہندوستان نے دراندازی پر لگائی لگام

اس دوران انہوں نے ایک اور اچھی خبر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے ہندوستان نے دراندازی کو 70 فیصد تک کم کردیا ہے۔ حالانکہ، اس دوران انہون نے ڈرون کی وجہ سے مل رہی سیکورٹی چیلنجز پر تشوش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون اور سرنگوں کے ذریعہ ہتھیار اور ڈرگس بھیجنے کی پاکستان کی خواہش واقعی چیلنج ہے۔ فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے نے بھی (سینا دیوس (یوم فوج) پر دراندازی کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایل او سی کی کارروائی نے نہ صرف دشمنوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، بلکہ دراندازی کی کئی کوششوں کو بھی ناکام کیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 17, 2021 03:50 PM IST