ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر:ویک اینڈلاک ڈاؤن کےنفاذپرکیاجارہاہے غور،ان اضلاع میں پہلےنافذہوسکتی ہےپابندیاں

سرکاری ذرائع سے پتہ چلا کہ انہوں نے پہلے تاجر سے وابستہ لوگوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ بازاروں میں بھیڑ کو کم کرانے اور سماجی دوری اختیار کرنے میں تعاون کریں۔سرکار ایسا سوچ رہی ہے کہ ایسا میکانزم بنایا جائے جس سے کووڈ معاملات پر روک تھام ہوسکے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر:ویک اینڈلاک ڈاؤن کےنفاذپرکیاجارہاہے غور،ان اضلاع میں پہلےنافذہوسکتی ہےپابندیاں
مختلف اضلاع میں ہفتہ وار طریقے سے لاک ڈاؤن نافذ کیاجائے گاجو سب سے زیادہ متاثر اضلاع ہونگے ان میں پہلے ہی لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔

گزشتہ روزجموں وکشمیر میں 1524کوڈ کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ان میں کشمیر سے 989کیس سامنے آئے جس میں سرینگر شہر سے520 جبکہ ضلع بارہمولہ میں ایک 122 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔جموں صوبے سے 547 کیس سامنے آئے جس میں صرف جموں ضلع سے299 معاملات رپوٹ کے کئے۔اس طرح سب سے زیادہ کوڈ معاملات جموں ضلع میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح ریاسی،کھٹوعہ اور ادھمپورمیں بھی کافی معاملات سامنے آئے ہیں۔کشمیرمیں سرینگر ضلع اور بارہمولہ ضلع کوڈ کے بڑھتے معاملات میں سرفہرست ہے۔بارہمولہ میں گزشتہ روز ایک 122مثبت معاملات سامنے آئے۔ اس خطرناک معاملے کو دیکھتے ہوئےجموں وکشمیر سرکار ایک ایسے لائحہ عمل پر غور کررہی ہے جس سے اس وبائی بیماری سے پھیلنے سے کچھ حد تک روکاجاسکے۔سرکار نے اقدامات اٹھاتے ہوئے پہلے اسکول بند کئے اب انہوں نے کالج اور یونیورسٹیاں بھی بند کردی ہے۔ تقاریب میں 20لوگوں کو ہی جانے کی اجازت ہوگی۔نائٹ کرفیو نافذ کر دیاگیاہے



دوسری جانب ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اب سرکار ایک بڑا فیصلہ لینے جارہی ہے ۔جس میں مختلف اضلاع میں ہفتہ وار طریقے سے لاک ڈاؤن نافذ کیاجائے گاجو سب سے زیادہ متاثر اضلاع ہونگے ان میں پہلے ہی لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔حکومت لگاتار لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حق میں بھی نہیں ہے کیونکہ پہلے سے ہی تجارتی ادارے اور دیگر معشیت متاثر رہی ہے اب اگر دوبارہ لاک ڈاؤن لگایاجائے گا تو اسے لوگوں کو مزید نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔سرکار یہ بھی سوچ رہی ہے کہ بازاروں میں لوگوں کا رش کم کیا جائے گا ،لوگوں کی بھیڑ پر بھی لگام لگائی جائے گی۔انتظامیہ پہلے ہفتہ وار لاک ڈاؤن کے بارے میں سوچ وچار کررہی ہے اور اگر کووڈ کے مثبت معاملات بڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ مکمل طور پر لاک ڈاؤن لگایا جاسکتا ہے۔


سرکاری ذرائع سے پتہ چلا کہ انہوں نے پہلے تاجر سے وابستہ لوگوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ بازاروں میں بھیڑ کو کم کرانے اور سماجی دوری اختیار کرنے میں تعاون کریں۔سرکار ایسا سوچ رہی ہے کہ ایسا میکانزم بنایا جائے جس سے کووڈ معاملات پر روک تھام ہوسکے۔کہتےہیں حالات بہت زیادہ خراب ہورہے ہیں۔اسپتالوں میں بیڈ اور دیگر چیزیں دستیاب نہیں ہے۔سرکار کے مطابق اگر ہفتہ وار لاک ڈاؤن اگر نافذ کیا جائے گا تو کوڈ کے بڑھتے معاملات پر روک تھام کیاجاسکتا ہے۔ لوگوں کو بھی چاہے کہ سرکار کی گائیڈ لائن پر پابندی سے عمل کریں اور احتیاطی تدابیر اپنائے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 19, 2021 10:11 PM IST