ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

 جموں و کشمیر : اراضی قوانین سے متعلق مرکزی حکومت کے نئے نوٹیفکیشن پر اپوزیشن چراغ پا

نئے نوٹیفکیشن کے مطابق اب جموں و کشمیر اور لداخ میں غیر زرعی زمین کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لئے یہاں کا پشتینی باشندہ یا ڈومسایل ہونا ضروری نہیں ۔ اس نوٹفیکیشن پر مقامی سیاسی جماعتوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔

  • Share this:
 جموں و کشمیر : اراضی قوانین سے متعلق مرکزی حکومت کے نئے نوٹیفکیشن پر اپوزیشن چراغ پا
 جموں و کشمیر : اراضی قوانین سے متعلق مرکزی حکومت کے نئے نوٹیفکیشن پر اپوزیشن چراغ پا (PTI)

مرکزی سرکار کی جانب سے جموں کشمیر اور لداخ میں اراضی قوانین میں کئی ترمیمات کی گئی ہیں ۔ ان ترمیمات میں ایک معاملہ تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق اب جموں و کشمیر اور  لداخ میں غیر زرعی زمین کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لئے یہاں کا پشتینی باشندہ یا ڈومسایل ہونا ضروری نہیں ۔ اس نوٹفیکیشن پر مقامی سیاسی جماعتوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔


جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے اس اقدام کونا قابل قبول قرار دیا ۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے اسے عوام کے ساتھ دھوکہ سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس ترمیم کے ذریعہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو اپنی زمین سے بے دخل کیا جائے گا ۔ دیگر سیاسی پارٹیوں جیسے پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس یہاں تک کہ اپنی پارٹی نے بھی اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس ترمیم کے خلاف جدو جہد کرنے کی بات کی ہے ۔


ادھر جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے جب اس باپت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم صرف غیر زرعی زمین پر لاگو ہے اور اس کے زریعہ بڑی صنعتوں کو یہاں قایم کرنے کے لئے راغب کیا جائے گا ۔ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جب ڈومسائل قوانین لاگو کئے گئے ، تب جموں و کشمیر اور لداخ میں زمین کے مالکانہ حقوق اور ڈیموگرافی کو تحفظ

دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ۔

گپکار ایلائنس میں شامل جماعتیں پہلے سے ہی 5 اگست 2019 کی صورتحال بحال کرنے کے مطالبہ کو لے کر لمبی لڑائی کی بات کررہی تھیں اور اب اس نئے تنازع پر وہ عوام کو متحرک کرنے کی باتیں کر رہی ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 27, 2020 09:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading