உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: گورنمنٹ ہائی اسکول گوپال پورہ کو رجنی بالا کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ، دہشت گردوں نے کیا تھا خاتون ٹیچر کا قتل

    J&K News: گورنمنٹ ہائی اسکول گوپال پورہ کو رجنی بالا کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ، دہشت گردوں نے کیا تھا خاتون ٹیچر کا قتل

    J&K News: گورنمنٹ ہائی اسکول گوپال پورہ کو رجنی بالا کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ، دہشت گردوں نے کیا تھا خاتون ٹیچر کا قتل

    Jammu and kashmir: جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں واقع گوپالپورہ گاوں میں 31 مئی2022 کو دہشت گردوں کی جانب سے قتل کی گئی خاتون ٹیچر کے اعزاز میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے مذکورہ اسکول کا نام رجنی بالا میموریل اسکول رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رجنی بالا کے اعزاز میں سرکار کے اس اقدام کا ان کے اہل خانہ اور عام لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں واقع گوپالپورہ گاوں میں  31 مئی2022  کو دہشت گردوں کی جانب سے قتل کی گئی خاتون ٹیچر کے اعزاز میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے مذکورہ اسکول کا نام رجنی بالا میموریل اسکول رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رجنی بالا کے اعزاز میں سرکار کے اس اقدام کا ان کے اہل خانہ اور عام لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے ۔ شہید رجنی بالا کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یوٹی انتظامیہ کے اس فیصلے سے وہ مطمئن ہیں، کیونکہ اس اقدام سے شہید رجنی بالا کا نام ہمیشہ لوگوں کی زبان پر آئے گا۔ رجنی بالا کی ایک رشتہ دار نے کہا کہ ان کا پورا خاندان غمزدہ ہے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار کا یہ قدم قابل اطمینان ہے ، ہمیں اچھا لگا کہ رجنی بالا نے اتنے برسوں تک جس سکول میں بچون کو پڑھایا اس سکول کو ان کے نام منسوب کیا گیا۔ آج ان کے ساتھیوں، طالب علموں اور جموں و کشمیر کے تمام لوگوں نے انہیں یاد کیا جو قابل فخر ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ رجنی بالا کے اچانک اس دُنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے رشتہ دار بالخصوص ان کی تیرہ سالہ بیٹی کے مستقبل کے بارے میں سرکار کو ضروری اقدامات کرنے چاہئیے ، ہم نے ایل جی منوج سنہا کے سامنے کل اس وقت اپنی مشکلات کا ذکر کیا جب وہ تعزیت کے لئے یہاں آئے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرکار فوری طور پر رجنی بالا کے شوہر راجکُمار کو جموں ٹرانسفر کرے، مقتولہ رجنی بالا کی بیٹی کو اس کی  پڑھائی مکمل ہونے تک ماں کی پوری تنخواہ دی جائے اور پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ان کی بیٹی کو تعلیمی قابلیت کے مطابق سرکاری نوکری فراہم کی جائے ۔ ایل جی نے ہمارے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم سرکار کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : وادی کے بیشتر علاقوں میں میلہ کھیر بھوانی کی تقریبات رہی پھیکی، جانیے کیوں


    جموں و کشمیر ٹیچرس فورم کے جنرل سیکریٹری ارسلان حبیب نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی اساتذہ برادری رجنی بالا کے قتل سے غمزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوپالپورہ کولگام کے سرکاری سکول کو رجنی بالا کے نام سے منسوب کرنا ایک قابل ستائش قدم ہے کیونکہ رجنی بالا نے عام بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کے عمل کے دوران شہادت پائی ۔ انہوں نے کہا کہ رجنی بالا اعلی پائے کی ٹیچر تھیں، جس کا اعتراف وہاں کے عوام نے پہلے بھی کیا ہے۔ایک استاد بغیر رنگ و نسل ، مذہب و ملت بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کرتا ہے اور اس کے بعد یہ حادثہ پیش آنا ایک المیہ ہے کیونکہ انسانیت کبھی بھی ایسے واقعات کو قبول نہیں کرسکتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ مرحومہ کے لواحقین کی بہبودی خاص طور پر ان کی تیرہ سالہ  بیٹی کے مستقبل کو لے کر انتظامیہ ضروری قدم اٹھائے تاکہ وہ اپنی زندگی کو آگے بڑھا سکیں ۔

    انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ محکمہ پولیس کی طرز پر اساتذہ کے لئے بھی ایک ویلفئیر فنڈ قائم کرے۔ ہم سرکار سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسے شہدا کی زندگی کے بارے میں اسکولی نصاب میں مضامین شامل کرے تاکہ آنے والی نسل رجنی بالا جیسے دیگر اساتذہ کی ملک اور سماج کے تئیں ان کی خدمات کے بارے میں آگاہ ہوں۔ ہم سرکار سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ پولیس میں کام کرنے والے اہلکاروں کے لئے قائم کئے گئے ویلفئیر فنڈ کی طرز پر اساتذہ کے لئے بھی ایک ویلفئیر فنڈ قائم کیا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات میں اپنی جان گنوانے والے اساتذہ کے اہل خانہ کی مالی مدد ہوسکے۔

    یہ بھی پڑھئے : ڈی ڈی سی حلقہ لارنو کیلئے تیسری مرتبہ ہوئی ووٹوں کی گنتی، جانئے اب کس کو ملی جیت


    ارسلان حبیب نے کہا کہ سرکار اساتذہ کے لئے ایسا ماحول بنائے کہ وہ بنا کسی خوف و دہشت کے اپنی ڈیوٹی انجام دے سکیں۔ نامور ماہر تعلیم پرکھشت منہاس نے کہا کہ رجنی بالا کو ایسا اعزاز دینا اچھا قدم ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں۔ رجنی بالا کو جس طرح آج ان کے ساتھی، طالب علم اور جموں و کشمیر کے لوگ یاد کرر ہے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس واقع سے غمزدہ ہیں ۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کرے تاکہ کوئی اور نہتہ شخص دہشت گردوں کی بھینٹ نہ چڑھے ۔

    واضح رہے کہ رجنی بالا کے قتل کے دسویں دن کے موقع پر جموں و کشمیر کے تمام اسکولوں میں ان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ۔

     
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: