உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری مائیگرنٹ جائیداد سے متعلق شکایات درج اور ان کا ازالہ کرنے کیلئے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے آن لائن پورٹل کا آغاز

    واضح رہے کہ 1990 کے اوائیل میں کشمیر میں ملٹینسی شروع ہونے کے ساتھ ہی لاکھوں لوگ کشمیر وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جن میں زیادہ تعداد کشمیری پنڈتوں کی ہے۔

    واضح رہے کہ 1990 کے اوائیل میں کشمیر میں ملٹینسی شروع ہونے کے ساتھ ہی لاکھوں لوگ کشمیر وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جن میں زیادہ تعداد کشمیری پنڈتوں کی ہے۔

    واضح رہے کہ 1990 کے اوائیل میں کشمیر میں ملٹینسی شروع ہونے کے ساتھ ہی لاکھوں لوگ کشمیر وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جن میں زیادہ تعداد کشمیری پنڈتوں کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    کشمیری مائیگرنٹوں کی وادی میں موجود غیر منقولہ جائیداد پر سے ناجائز قبضہ ہٹانے ، مندروں اور دیگر مذہبی مقامات کی جائیدادوں پر سے ناجائز تجاوزات ختم کرنے اور مائیگریشن کے بعد لاچاری کے عالم میں فروخت کی گئی مائیگرنٹ جائیداد سے متعلق شکایات درج کرنے اور ان کا ازالہ کرنے کے لئے جموں و کشمیر سرکار کی طرف سے ایک آن لائین پورٹل کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے شکایت کنندگان وادی میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے بارے میں درخواستیں دے سکتے ہیں تاکہ ان کی جائیز شکایات پر کاروائی کرکے مزکورہ جائیداد بحال کی جاسکے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے اس اقدام کا کشمیری مائیگرنٹ تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے ۔ یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج کے صدر آر کے بٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک صیح اقدام ہے ۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی میں پنڈتوں کے مذہبی مقامات پر کئے گئے ناجائز قبضے کو فوری طور ہٹانے کے لئے یہ پورٹل کافی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہون نے کہا کہ مذہبی مقامات کی جائیداد کو کئی نام نہاد ٹرسٹس کی طرف سے بھی فروخت کیا گیا ہے اور ایسی تمام لین دین کوکالعدم قرار دیا جانا چاہئے کیونکہ مذہبی مقامات کی پراپرٹی پر کسی بھی ٹرسٹ یا فرد کے ملکیتی حقوق نہں ہیں بلکہ وہ صرف اور جائیداد کا نگراں ہوتا ہے۔

    کشمیر وادی سے ہجرت کرنے کے بعد لاچاری کے عالم میں فروخت کی گئی غیر منقولہ جائیداد کو حقیقی مالک کو دوبارہ منتقل کرنے سے متعلق فیصلہ لیتے وقت اسبات کو ملحوظ رکھا جانا چاہئیے کہ یہ جائداد کس سال میں فروخت کی گئی ہے کیونکہ بقول انکے گزشتہ لگ بھگ پندرہ برسوں کے دوران کئی مائیگرنٹوں نے اپنی غیر منقولہ جائیدادیں اپنی مرضی کے مطابق فروخت کی ہیں۔

    نوو سون کشمیر فرنٹ کے صدر شادی لعل پنڈتا نے یو ٹی انتظامیہ کے س اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیوز ایٹین اردو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںؓ نے کہا کہ انکی تنظیم کئی برسوں سے یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ کشمیری مہاجرین کی وادی میں موجود غیر منقولہ جائیداد پر سے ناجائز قبضہ ہٹایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں جہاں چند خود غرض عناصر نے محکمہ مال کے افسران سے مل کر غیر قانونی طور پر پنڈتوں کی زمینیں اپنے نام کر دی ہیں اور اس اقدام سے وہ جائیدادیں بھی حقیقی مالکان کو سونپی جاسکتی ہیں۔ شادی لعل پنڈتا نے کہا کہ کشمیر وادی میں 1990 کے بعد مندروں کی ہزاروں کنال زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے جس سے ہٹانا نہایت ہی لازمی ہے۔ کشمیر پنڈت لیڈر اشونی چرنگو نے اس اقدام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کاغزی کاروائی تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئیے بلکہ زمینی سطح پر عملا کر سرکار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس معاملے میں کافی سنجیدہ ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اشونی چرنگو نے کہا کہ انتظامیہ کے تمام متعلقہ افسران کو کشمیری مائیگرنٹس کی غیر منقولہ جائیداد پر سے ناجائز قبضہ ہٹانہے کے لئے ایمانداری سے کام کرنا چاہئیے۔

    واضح رہے کہ 1990 کے اوائیل میں کشمیر میں ملٹینسی شروع ہونے کے ساتھ ہی لاکھوں لوگ کشمیر وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جن میں زیادہ تعداد کشمیری پنڈتوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ ساٹھ ہزار کنبوں نے کشمیر وادی سے ہجرت کی جن میں سے چوالیس ہزار کے قریب خاندان جموں و کشمیر ریلیف تنظیم مائیگرنٹس کے ساتھ رجسٹر شدہ ہیں۔ خوف کے عالم میں وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے کشمیری پنڈت اپنی منقولہ و غیر منقول جائیداد پیچھے چھوڑ گئے۔ مائیگریشن کے بعد مشکل مالی حالات کے باعث کئی مائیگرنٹ وادی میں موجود اپنی غیر منقولہ جائداد کوڑیوں کے دام بیچنے پر مجبور ہوگئے۔ اس معاملے کو سُلجھانے کے لئے دو جون 1997 کو جموں و کشمیر اسمبلی نے The Jammu and Kashmir migrant immovable property ( Preservation, Protection and restraint on distress sale )Act 1997 اپنایا۔ اس ایکٹ کی رو سے مائیگرنٹوں کی جائیداد کی حفاظت اور لاچاری کے عالم میں فروخت کی جانے والی جائیداد کو تحفظ حاصل ہوا۔ اس قانون کے تحت متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو مائیگرنٹ جائداد کا نگران مقرر کیا گیا تھا تاہم آج تک اس پر کوئی مثبت عمل در آمد نہیں ہوپایا ۔ اب موجودہ سرکار کے اس اقدام سے یہ قانون صیح معنوں میں زمینی سطح پر عملانے کا کام شروع ہوچکا ہے
    Published by:Sana Naeem
    First published: