உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: کشمیر میں گرمی کی لہر، سری نگر جموں کے مقابلے زیادہ گرم 

    کشمیر میں 30 جون اس موسم کا گرم ترین دن ثابت ہوا۔ سری نگر شہر کا درجہ حرارت جموں سے بھی تین ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں 30 جون کو درجہ حرارت 34.2 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ وادی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں تو درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

    کشمیر میں 30 جون اس موسم کا گرم ترین دن ثابت ہوا۔ سری نگر شہر کا درجہ حرارت جموں سے بھی تین ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں 30 جون کو درجہ حرارت 34.2 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ وادی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں تو درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

    کشمیر میں 30 جون اس موسم کا گرم ترین دن ثابت ہوا۔ سری نگر شہر کا درجہ حرارت جموں سے بھی تین ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں 30 جون کو درجہ حرارت 34.2 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ وادی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں تو درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

    • Share this:
    سری نگر: کشمیر میں 30 جون اس موسم کا گرم ترین دن ثابت ہوا۔ سری نگر شہر کا درجہ حرارت جموں سے بھی تین ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں 30 جون کو درجہ حرارت 34.2 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ وادی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں تو درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

    مرکزی موسمیاتی مرکز رامباغ کے انچارج سونم لوٹس کا کہنا ہئے کہ کشمیر میں درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری زیادہ درج کیا جا رہا ہئے۔ سونم لوٹس کے مطابق اگلے چار دن میں بارش کا امکان ہئے لیکن اس مہینے درجہ حرارت 35 ڈگری سیلشس تک جاسکتا ہے۔ سونم لوٹس کا کہنا ہئے کہ جون کے مہینے میں درجہ حرارت اکثر 33 اور 34 ڈگری کے درمیان ہی رہا ہئے لیکن سال 2018 میں درجہ حرارت 35 ڈگری پہنچ گیا تھا۔

    محکمہ موسمیات کے پاس دستیاب ریکارڈس کے مطابق کشمیر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ 37.8 ڈگری سیلشس ہئے۔ اس بار عوام کو اس بات سے زیادہ پریشانی رہی کہ بارش مارچ میں بہت کم ہوئی اور مجموعی طور پر بارش اوسط سے چالیس فیصد کم ہوئی ہئے جسکی وجہ سے زراعت اور باغبانی شعبہ متاثر رہا ہئے اور اس کے علاوہ اچانک گرمی بڑھ جاتی ہئے اور پھر ایک دم ہلکی بارش کے بعد اس میں کافی کمی آجاتی ہئے۔ موسم کے مزاج میں اس اُلٹ پھیر کے چلتے کئی لوگ بیمار بھی ہوجاتے ہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسم کے مزاج میں اچانک ہورہی تبدیلیاں موسمیاتی تبدیلی یعنی climate change کا نتیجہ ہے۔ ہمالیائی خطہ ماحولیاتی اعتبار سے کافی حساس ہئے اور موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر ایسے ہی حساس علاقوں پر زیادہ ہوتا ہئے۔ اُدھر بڑھتی گرمی کی وجہ سے گلیشر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گلیشیروں کے تیزی سے پگھلنے کا مطلب یہ ہے کہ آگے نہ صرف پانی کی کمی ہوسکتی ہے بلکہ سیلاب جیسی قدرتی آفات کا بھی سامنا رہتا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: