உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : قہر انگیز برف باری میں موت کو چکمہ دیکر 6 لوگ پہنچے اچانک گھر، جانئے پورا معاملہ

    J&K News : قہر انگیز برف باری میں موت کو چکمہ دیکر 6 لوگ پہنچے اچانک گھر، جانئے پورا معاملہ

    J&K News : قہر انگیز برف باری میں موت کو چکمہ دیکر 6 لوگ پہنچے اچانک گھر، جانئے پورا معاملہ

    Jammu and Kashmir News : مرگن ٹاپ پر گزشتہ 3 روز سے لاپتہ واڈون کے 6 افراد نے بالاآخر موت کو چکما دیکر ہمت اور حوصلے کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے ۔ ہماچل پردیش سے واپس آرہے واڈون کے یہ چھ افراد مرگن ٹاپ پر اس وقت لاپتہ ہوگئے ، جب وہ پیدل اپنے گھروں کی جانب جا رہے تھے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: مرگن ٹاپ پر گزشتہ 3 روز سے لاپتہ واڈون کے 6 افراد نے بالاآخر موت کو چکما دیکر ہمت اور حوصلے کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے ۔ ہماچل پردیش سے واپس آرہے واڈون کے یہ چھ افراد مرگن ٹاپ پر اس وقت لاپتہ ہوگئے ، جب وہ پیدل اپنے گھروں کی جانب جا رہے تھے ، لیکن مرگن ٹاپ کے پہاڑ پر پہنچتے ہی انہیں بھاری برف باری کا سامنا کرنا پڑا اور اسی اثنا میں ان کے افراد خانہ سے بھی ان کا موبائل رابطہ ٹوٹ گیا۔ واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ ، پولیس اور فوج نے مقامی رضاکاروں کے تعاون سے ریسکیو آپریشن چلایا ، لیکن خراب موسم کی وجہ سے تین روز تک لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ جبکہ ان لوگوں کی موت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا تھا۔ جمعہ کے روز اس وقت ریسکیو ٹیم اور انتظامیہ نے راحت کی سانس لی ، جب لاپتہ افراد کا سراغ پولیس کو حاصل ہوگیا اور یہ بات سامنے آئے کہ سبھی لوگ بحفاظت گھروں کی جانب جا رہے ہیں ۔ واڈون پہنچنے پر مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور فوج نے ان سبھی افراد کا والہانہ استقبال کیا اور ان کی ہمت و حوصلے کو سلام پیش کیا۔

    برف میں پھنسے ان افراد کا کہنا ہے کہ جب برف باری نے اپنے تیور دکھانے شروع کئے تو انہوں نے مرگن ٹاپ پر قائم ایک شیلٹر شیڈ میں پناہ لی جبکہ انہوں نے پہلے ہی کچھ لکڑی جمع کی تھی ، جس سے انہوں نے آگ جلائی اور پہلے ان کے پاس موجود کھانے پینے کی چیزوں کا بھی انہوں نے دانشمندی کے ساتھ استعمال کیا ، جس سے ان کی جانیں بچ گئیں اور وہ دوبارہ اپنے گھر والوں سے ملاقی ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے کہا کہ انہیں کشتواڑ میں اپنے ہم منصب سے تصدیق ہوئی ہے کہ چھ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ ڈی سی اننت ناگ کے مطابق ماؤنٹین ریسکیو، آرمی اور ایس ڈی آر ایف کی مشترکہ ٹیموں کی جانب سے چھ افراد کو تلاش کرنے کے لئے جمعہ کے روز علی الصبح ایک بڑی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ۔ ڈی سی اننت ناگ نے بتایا کہ ایم آر ٹی، ایس ڈی آر ایف، آرمی اہلکاروں کی مشترکہ ریسکیو پارٹی مقامی گائیڈوں کے ساتھ گزشتہ روز صبح 4:45 بجے متیگاورن سے روانہ ہوئی۔

    ڈی سی اننت ناگ نے برف باری والے علاقوں کو صاف کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر وسائل کو متحرک کرنے کا بھی حکم دیا تھا ۔ تاکہ بچاؤ کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔ ذاتی طور پر کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہوئے ایس ایس پی اننت ناگ آشیش مشرا ، سیکٹر 2 آر آر کے فوجی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں تھے اور بچاؤ آپریشن کی باریک بینی سے نگرانی ہو رہی تھی۔ ضلع انتظامیہ، پولیس، فوج اور کشتواڑ کے حکام کی مشترکہ کوششوں نے اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا کہ ریسکیو آپریشن ہموار رہے اور لوگ بحفاظت گھر پہنچ گئے۔ یہ کوششیں ایس ڈی ایم کوکرناگ، ایس ڈی پی او کوکرناگ اور سی او 19 آر آر لارکی پورہ کے قریبی تال میل سے زمین پر نافذ کی گئیں۔ فوج کے حکام نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہیلی کاپٹر کو اسٹینڈ بائی پر رکھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث اس آپشن کو استعمال نہ کیا جا سکا۔

    ادھر واڈون کے مقامی لوگوں نے فوج، پولیس اور مقامی انتظامیہ کی کاوشوں کی سراہنا کرتے ہوئے تمام متعلقین کا شکریہ ادا کیا اور لاپتہ افراد کی بازیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ تاہم لوگوں نے واڈون علاقے کا سڑک رابطہ بہتر بنانے اور اسے آل ویتھر روٹ بنانے کا سرکار سے مطالبہ کیا۔ واڈون کے ایک مقامی رضکار رؤف احمد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے واڈون جانے والے راستے کو آل ویتھر روڈ بنانا بے حد ضروری ہے۔ جبکہ کشتواڑ سے براہ راست رابطہ بحال کرنے کی غرض سے ٹنل تعمیر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی جانوں کا زیاں بھی روکا جا سکے۔

    واضح رہے کہ واڈون کا باقی دنیا کے ساتھ رابطہ لگ بھگ سال کے 7 ماہ منقطع رہتا ہے۔ جبکہ اننت ناگ ضلع کے ساتھ سڑک رابطہ قائم ہونے کے باوجود بھی واڈون کو کشتواڑ ضلع کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: