உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں بھاری برفباری سے زمینی اور سڑک رابطے منقطع ، بجلی گُل، عوام پریشان، انتظامیہ بے خبر

    برفباری کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں اور انتظامیہ بے خبر پائی گئی۔ البتہ سرینگر پہنچنے والے سیاح برفباری سے خوش ہیں 

    برفباری کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں اور انتظامیہ بے خبر پائی گئی۔ البتہ سرینگر پہنچنے والے سیاح برفباری سے خوش ہیں 

    برفباری کے چلتے ہوائی سروسز بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور زمینی ٹرانسپورٹ بھی کافی متاثر ہے ۔ سرینگر ہوائی اڈے کے عہدیداروں کے مطابق ہوائی اڈے پر برف کے ساتھ ساتھ روشنی بھی کافی کم ہے جسکے چلتے دن کے بارہ بجے تک دو درجن کے قریب فلائٹس منسوخ کرنی پڑی ۔

    • Share this:
    کشمیر وادی میں سرما نکلتے نکلتے ایک بار پھر برفباری ہورہی ہے ۔ کل نصف شب سے برفباری شروع ہوئی اور پہاڑی علاقوں کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں جم کے برفباری ہورہی ہے ۔ برفباری کے چلتے ہوائی سروسز بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور زمینی ٹرانسپورٹ بھی کافی متاثر ہے ۔ سرینگر ہوائی اڈے کے عہدیداروں کے مطابق ہوائی اڈے پر برف کے ساتھ ساتھ روشنی بھی کافی کم ہے جسکے چلتے دن کے بارہ بجے تک دو درجن کے قریب فلائٹس منسوخ کرنی پڑی ۔ کپواڑہ ، بانڈی پورہ اور دیگر کئی علاقوں میں دور دراز علاقوں سے ملانے والے سڑکیں برفباری کی وجہ سے کٹ گئی ہیں۔ سرینگر جموں قومی شاہراہ ٹریفک کے لئے بند ہے ۔گرمائی دارالحکومت سرینگر میں بھی برفباری شروع ہوتے ہی پہلے بجلی چلی گئی اور پھر سڑکوں سے ٹریفک غائب۔ رات بھر کی برفباری کے بعد حالانکہ سرینگر میں دوپہر تک 10 انچ تک ہی برف جمع تھی لیکن میونسپل کارپوریشن دوپہر تک چند ہی سڑکوں سے برف ہٹا پائی تھی۔

    کچھ مقامات پر سڑکوں پر درخت گر آئے تھے اور لوگوں کو اہم رابطہ سڑکوں پر پیدل چلتے دیکھا گیا۔ چھانہ پورہ میں لالچوک کی طرف پیدل جارہے کچھ لوگوں نے کہا کہ موچھوہ میں سڑک پر ایک بڑا درخت سڑک کے بیچوں بیچ گر آیا ہے اور روڑ بند ہوگیا ہے۔ اشرف نامی ایک شخص نے بتایا کہ سڑک سے برف اچھی طرح ہٹائی نہیں گئی ہے اور اسکی وجہ سے گاڑیاں میسر نہیں ہیں۔ شہر کے وسط میں واقع عبداللہ برج سرینگر پر ٹریفک کے اہلکار گاڑیوں کو دھکیل رہے تھے کیونکہ پھسلن کی وجہ سے گاڑیاں چڑھ نہیں پارہی تھیں۔ جائے موقع پر موجود ٹریفک اہلکاروں کا کہنا تھا کہ برف صاف کرنا اور سڑک کو آمد و رفت کے قابل بنانا میونسپل کارپوریشن کا کام ہے لیکن وہ آئے نہیں ۔ باغات برزلہ سرینگر میں ایک مکان پر پیڑ گر آیا لیکن گھر کے لوگ معجزاتی طور پر بچ۔ میدانی علاقوں میں سب سے زیادہ برفباری کولگام علاقے میں درج کی گئی۔

    ڈل جھل اور جہلم کے کناروں پر کئی سیاح برفباری کا مزہ لے رہے تھے۔ انل پاٹل نامی ایک سیاح نے کہا کہ یہ برفباری غیر متوقع تھی لیکن انکے لئے خوشی کا ساماں لے کر ائی۔ انکا کہنا تھا کہ انھوں نے برف دیکھنے کے لئے سونہ مرگ جانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس برفباری نے انھیں سرینگر میں ہی برف کا لطف لینے کا موقع فراہم کیا۔ ویسے تو فروری میں برفباری کوئی نئی بات نہیں لیکن پچھلے کچھ دن سے موسم نے بہار کا سماں باندھا تھا اور کھلی دھوپ تھی لہذا سرما کے آخری ایام میں یہ برفباری کئی لوگوں کے لئے حیران کُن رہی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: