ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

اوے پورہ تصادم: مہلوکین کے اہل خانہ کے دعوؤں کی تحقیقات کی جائے گی: دلباغ سنگھ

دلباغ سنگھ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’میرے پاس لاوے پورہ انکوائنٹر کے بارے میں فوج کی کلو فورس کے جی او سی (ایچ ایس ساہی) کے بیان کے ساتھ اختلاف کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے لیکن پولیس مہلوکین کے اہل خانہ کے دعوؤں کی پھر بھی تحقیقات کرے گی‘۔موصوف نے ایک سوال کے جواب میں کہا: ’دو مہلوکین کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچے یونیورسٹی فارم جمع کرنے کے لئے گئے تھے لیکن پھر وہ جائے تصادم آرائی پر کیا کر رہے تھے؟‘۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 31, 2020 05:36 PM IST
  • Share this:
اوے پورہ تصادم: مہلوکین کے اہل خانہ کے دعوؤں کی تحقیقات کی جائے گی: دلباغ سنگھ
دلباغ سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کیا۔

جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ اگرچہ میرے پاس لاوے پورہ تصادم کے بارے میں ایک سینئر فوجی افسر کے بیان کے ساتھ اختلاف کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے تاہم مہلوکین کے اہل خانہ کے دعوؤں کی پھر بھی تحقیقات کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں سے بے خبر ہوتے ہیں۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’میرے پاس لاوے پورہ انکوائنٹر کے بارے میں فوج کی کلو فورس کے جی او سی (ایچ ایس ساہی) کے بیان کے ساتھ اختلاف کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے لیکن پولیس مہلوکین کے اہل خانہ کے دعوؤں کی پھر بھی تحقیقات کرے گی‘۔موصوف نے ایک سوال کے جواب میں کہا: ’دو مہلوکین کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچے یونیورسٹی فارم جمع کرنے کے لئے گئے تھے لیکن پھر وہ جائے تصادم آرائی پر کیا کر رہے تھے؟‘۔


بتادیں کہ فوج کی کلو فورس کے جی او سی میجر جنرل ایچ ایس ساہی نے بدھ کے روز اس تصادم کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ مہلوک قومی شاہراہ پر ایک بڑی کارروائی انجام دینے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پولیس بیان کے مطابق مہلوکین پولیس کے مشتبہ لسٹ میں درج نہیں تھے، کے جواب میں انہوں نے کہا: ’یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر مشتبہ دہشت گرد پولیس کی لسٹ میں درج ہو، جب کوئی نوجوان دہشت گردوں کی صفوں میں شرکت کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو وہ اہل خانہ کو بتا کر نہیں نکلتا ہے‘۔بتادیں کہ لاوے پورہ سری نگر میں بدھ کے روز تصادم میں تین نوجوان مارے گئے جن کی شناخت اعجاز احمد گنائی، اطہر مشتاق اور زبیر احمد کے بطور ہوئی۔


 تصادم میں تین نوجوان مارے گئے جن کی شناخت اعجاز احمد گنائی، اطہر مشتاق اور زبیر احمد کے بطور ہوئی۔
تصادم میں تین نوجوان مارے گئے جن کی شناخت اعجاز احمد گنائی، اطہر مشتاق اور زبیر احمد کے بطور ہوئی۔


فوج نے مہلوکین کو مشتبہ دہشت گرد قرار دے کر کہا کہ یہ تینوں افراد قومی شاہراہ پر ایک بڑی کارروائی انجام دینے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔پولیس نے مہلوکین کے بارے میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ مہلوکین میں سے دودہشت گردوں کے اعانت کار تھے جبکہ تیسرے نے ممکنہ طور دہشت گردوں کی صفوں کی شمولیت اختیار کی تھی۔تصادم کے بعد مہلوکین کے اہل خانہ نے پولیس کنٹرول روم سری نگر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مہلوکین دہشت گرد نہیں بلکہ طلبا تھے۔انہوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثنا سیاسی جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، اپنی پارٹی، سی پی آئی (ایم) نے اس تصادم میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Dec 31, 2020 05:36 PM IST