உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    3 جون کو وزیر داخلہ امت شاہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے درمیان میٹنگ، جموں وکشمیرکی صورتحال پر ہوگا تبادلہ خیال

    Home Minister Amit Shah and Manoj Sinha Meeting: مرکزی وزیر داخلہ نے 3 جون کو جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ریاست کی صورتحال پر جائزہ میٹنگ کے لئے بلایا ہے۔ منوج سنہا کے ساتھ اس میٹنگ میں وزارت داخلہ اور جموں وکشمیر کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہوں گے۔

    Home Minister Amit Shah and Manoj Sinha Meeting: مرکزی وزیر داخلہ نے 3 جون کو جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ریاست کی صورتحال پر جائزہ میٹنگ کے لئے بلایا ہے۔ منوج سنہا کے ساتھ اس میٹنگ میں وزارت داخلہ اور جموں وکشمیر کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہوں گے۔

    Home Minister Amit Shah and Manoj Sinha Meeting: مرکزی وزیر داخلہ نے 3 جون کو جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ریاست کی صورتحال پر جائزہ میٹنگ کے لئے بلایا ہے۔ منوج سنہا کے ساتھ اس میٹنگ میں وزارت داخلہ اور جموں وکشمیر کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہوں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر میں گزشتہ کچھ دنوں سے وادی کے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والا ہندو ملازمین کو ہدف بناکر ایک کے بعد ایک قتل ہو رہے ہیں۔ صرف ایک ماہ کے اندر دہشت گردوں نے سات واردات کو انجام دیا ہے۔ وادی میں دہشت گردانہ حادثات میں تیزی سے ہو رہے اضافہ کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 3 جون کو جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو میٹنگ کے لئے بلایا ہے۔ میٹنگ میں ریاست کی موجودہ صورتحال اور سیکورٹی نظام کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر داخلہ اس میٹنگ میں جموں وکشمیر کے سینئر افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کریں گے۔

      وادی میں ہندووں کے قتل کو لے کر جائزہ لیا جائے گا

      اس میٹنگ کی صدارت وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے۔ افسران نے بتایا کہ اس میٹنگ میں وزیر داخلہ کے علاوہ وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران اور جموں وکشمیر کے اعلیٰ افسران کی بھی موجودگی ہوں گی۔ اس میٹنگ میں جموں وکشمیر میں سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ہندو ملازمین کو نشان بناکر دہشت گردوں کے ذریعہ قتل کرنے سے متعلق سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اس کے علاوہ امرناتھ یاترا کے دوران سیکورٹی نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

      سال 2021 میں سب سے زیادہ ہندووں کا قتل

      وادی میں گزشتہ ایک ماہ میں دہشت گردوں نے 7 حملوں کو انجام دیا ہے۔ ایک دن پہلے ہی ایک اسکول میں ہندو ٹیچر کی دہشت گردوں نے قتل کردیا۔ اس کے بعد پورے ملک میں کشمیرکی صورتحال کو لے کر لوگوں میں تشویش ہے۔ اسکول ٹیچر رجنی بالا پانچ سال سے گوپال پورہ کے اسکول میں پڑھا رہی تھیں۔

      رجنی بالا کے قتل کے بعد کشمیری پنڈتوں نے کلگام اور سری نگر ہائی وے پر احتجاج کرکے سیکورٹی کے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی سال اپریل میں پارلیمنٹ میں دی گئی جانکاری کے مطابق، گزشتہ پانچ سال میں کشمیر میں اقلیتی طبقے کے 34 لوگوں کو دہشت گردوں نے قتل کردیا۔ ان میں 11 وارداتیں 2021 میں ہوئیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: