ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: رواں برس جموں میں اچھے سیاحتی سیزن کی امید، ماتا ویشنو دیوی اور امرناتھ یاترا پر زیادہ یاتریوں کی آمد کی توقع

جموں ڈویژن میں سیاحت کی صنعت بنیادی طور پر مذہبی سیاحت یعنی پلگرم ٹورازم پر منحصر ہے۔ ماتا وشنو دیوی کے مندر پر پہنچنے والے زائرین سیاحتی صنعت کے لئے خطے میں ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: رواں برس جموں میں اچھے سیاحتی سیزن کی امید، ماتا ویشنو دیوی اور امرناتھ یاترا پر زیادہ یاتریوں کی آمد کی توقع
جموں وکشمیر: رواں برس جموں میں اچھے سیاحتی سیزن کی امید

جموں کشمیر: موجودہ سیاحتی سیزن کی ایک اچھی امید لےکر جموں کے سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد جموں ڈویژن میں سیاحت کی سرگرمیوں کے لئے بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ سیاحوں کی تجارت سے وابستہ ہوٹلوں اور دیگر افراد کو امید ہے کہ رواں سال سیاحوں کا ایک اچھا سیزن جسے گزشتہ برس وبائی امراض کی وجہ سے ان کو ہوئے نقصانات کی تلافی ہوسکے۔


جموں ڈویژن میں سیاحت کی صنعت بنیادی طور پر مذہبی سیاحت یعنی پلگرم ٹورازم پر منحصر ہے۔ ماتا وشنو دیوی کے مندر پر پہنچنے والے زائرین سیاحتی صنعت کے لئے خطے میں ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال کووڈ-19 کی وبائی صورتحال کی وجہ سے اس صنعت کو بری طرح سے مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ مندر ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے عقیدت مندوں کے لئے بند تھا۔ جبکہ پچھلے سال شری امرناتھ جی یاترا کی منسوخی کی وجہ سے یہاں کی سیاحتی صنعت مزید پٹری سے نیچے آگئی۔




خوش آئند بات یہ ہے کہ ماتا وشنو دیوی کی یاتری رواں سال شروع ہو چکی ہے اور حکام کے اعدادوشمار کے مطابق، 2021 کی پہلی سہ ماہی میں 13 لاکھ سے زیادہ یاتریوں نے مندر پر حاضری دی۔ اب جب نوراتر قریب ہے اور امرناتھ یاترا کے اندراج بھی شروع ہوچکے ہیں۔ امید ہے کہ ہوٹل والوں کو اس سال اچھا کاروبار ملے گا۔ موہن لال گپتا نامی ایک ہوٹل مالک نے بتایا کہ ہم اس وبائی امراض کی وجہ سے پچھلے سال بہت نقصان اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جب نوراتر آرہے ہیں اور امرناتھ یاترا بھی شروع ہونی ہے، ہم امیدکرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں زائرین جموں وارد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خطے میں سیاحوں کے زیادہ مقامات کے امکانات کو ڈھونڈتی ہے تاکہ صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔



انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر، منوج سنہا کے حالیہ اعلان کہ جموں میں ایک مندر تعمیرکی جائے گی، جس کے لئے 496 کنال سے زائد اراضی پر مندر اور اس سے منسلک انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے تیرومالا تروپتی دیواساتھم (ٹی ٹی ڈی) کو 40 برسوں کے لئے لیز پر زمین الاٹ کی گئی ہے۔ جوکہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ جموں شہر کے ایک ہوٹل میں منیجر نیتو گاڈو نے بتایا کہ پچھلے سال کوئی کاروبار نہیں ہوا تھا۔ ہوٹل مالکان کو ملازمین کی تنخواہوں کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑا تھا۔ اس سال ہم توقع کرتے ہیں کہ کاروبار بہتر ہوگا تاکہ پچھلے سال ہونے والے نقصانات کی کسی حد تک تلافی ہوسکے۔



مختلف پڑوسی ریاستوں میں کووڈ-19 مثبت واقعات میں حالیہ اضافے کے سبب ہوٹل والےکچھ حد تک خوف و خدشات سے بھی دوچار ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وبائی مرض کو قابو میں لایا جائے تاکہ ان کے کاروبارکو تکلیف نہ پہنچے۔ شیام لال گپتا اور گوپال دت جوشی نامی جموں کے دو مختلف ہوٹلوں میں منیجر کے طور پرکام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کووڈ کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ وبائی مرض کو قابو میں کیا جاسکے اور ان کا کاروبار جاری رہے۔ ہوٹلوں کے علاوہ، جموں میں سیاحت کی تجارت سے وابستہ دیگر تمام افراد پرامید ہیں کہ ان کے لئے یہ سیاحوں کا اچھا سیزن ثابت ہوگا تاکہ ان کا کاروبار اچھی طرح سے چل سکے اور ان کے نقصانات کی تلافی ہوسکے۔

واضح رہے کہ جموں وکشمیر کی سیاحتی میں پلگرم ٹورازم کا ایک کلیدی رول رہتا ہے جبکہ یہاں کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بھی پلگرم ٹورازم پر منحصر کرتا ہے۔ اس لئے سیاحتی صنعت سے جڑے افراد کی خواہش ہے کہ اس سال ماتا ویشنو دیوی اور شری امرناتھ جی یاترا کےلئے یاتریوں کی زیادہ سے زیادہ آمد ہو اور جموں کشمیرکی بگڑی ہوئی معاشی صورتحال پر کسی حد تک سدھار کی گنجائش ہو۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 03, 2021 09:11 PM IST