ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: کیسے پڑا اس خوبصورت وادی کا نام گلوان وادی

ہندوستان اور چین کے درمیان ان دنوں تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان وادی گلوان وادی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں وادی گلوان کی تاریخ کیا ہے۔ کیسے پڑا اس خوبصورت وادی کا نام۔ آئیے ہم بتاتے ہیں اس کی حقیقت۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: کیسے پڑا اس خوبصورت وادی کا نام گلوان وادی
جموں وکشمیر: کیسے پڑا اس خوبصورت وادی کا نام گلوان وادی

ہندوستان اور چین کے درمیان ان دنوں تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان وادی گلوان وادی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں وادی گلوان کی تاریخ کیا ہے۔ کیسے پڑا اس خوبصورت وادی کا نام۔ آئیے ہم بتاتے ہیں اس کی حقیقت۔ دراصل اس وادی کا نام لداخ کے ایک سخت جاں، جانباز کوہ پیما غلام رسول گلوان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ 1899 میں غلام رسول گلوان وادی نے اس خطے کی دریافت کی تھی۔ اس لئے اس دریا اور وادی کو ان کا نام دیا گیا۔ یہ وادی لداخ کے شمال مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ تاریخی کتابوں میں کئی ایک مقامات پر غلام رسول گالوان کا نام ملتا ہے۔


گلوان ایک کشمیری لفط ہے، جس کے معنی اردو میں سائسکے ہوتے ہیں۔ غلام رسول گالوان نے سرونٹس آف صاحبس کے عنوان سے ایک انگریزی کتاب بھی تحریر کی ہے۔ جس میں انھوں نے اپنے وقت کی سیاسی بڑی طاقتوں روس اور برطانیہ کے سیاسی ٹکراؤ اور سرد جنگ اور اپنی مہمات کو بیان کیا ہے۔ کتاب کے مطابق گالوان 1878 میں لیہہ میں پیدا ہوئے۔ ایام طفلی میں ہی وہ کوہ پیمائی و پُرخطر مہمات میں جٹ گئے تھے۔ غلام رسول گلوان نے اپنے وقت کے بڑے مہم جو وں، کوہ پیماؤں کی رہنمائی کے ساتھ کئی ایک سنگلاخ علاقوں اور وادیوں کا سفر کیا۔ 1887 میں مشہور انگریز جیولاجسٹ ایچ ایچ گُڈ ون آسٹن کے ساتھ کام کیا۔ جس نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی چوٹی کے ٹوکی پیمائش تھی، جسے آج ماؤنٹ گڈ ون آسٹن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔


سال 1890 میں گالوان نے کیپٹن ینگ ہسبینڈ کے ساتھ چین کے سنکیانگ صوبے میں واقع یارک لینڈ کا سفر کیا تھا۔ 1892 میں گلوان نے چارلس مرے، ڈنمور کے ساتویں ارل کے ساتھ سفارتی و جاسوسی مہم میں حصہ لیا۔ 1896 سر فرانسس ینگ ہسبینڈ کے ساتھ مل کر ہند تبت تجارتی معاہدے کو یقینی بنایا، جس سے برطانوی حکومت طویل مدتی تجارتی مراعات حاصل ہوئے۔ سال 1913 میں اطالوی ماہر اراضیات فلپو ڈی فلپ کی رہنمائی کی۔ غلام رسول گالوان انگریزی اور چینی زبانیں جانتے تھے، اس لئے کئی ایک یوروپی و برطانوی سیاحوں نے ان سے تعاون لیا۔


سال 1890 میں گالوان نے کیپٹن ینگ ہسبینڈ کے ساتھ چین کے سنکیانگ صوبے میں واقع یارک لینڈ کا سفر کیا تھا۔ 1892 میں گلوان نے چارلس مرے، ڈنمور کے ساتویں ارل کے ساتھ سفارتی و جاسوسی مہم میں حصہ لیا۔ فائل فوٹو
سال 1890 میں گالوان نے کیپٹن ینگ ہسبینڈ کے ساتھ چین کے سنکیانگ صوبے میں واقع یارک لینڈ کا سفر کیا تھا۔ 1892 میں گلوان نے چارلس مرے، ڈنمور کے ساتویں ارل کے ساتھ سفارتی و جاسوسی مہم میں حصہ لیا۔ فائل فوٹو


ہندوستان میں انگریز دور حکومت کے دوران حکومت بر طانیہ، روس کی جغرافیائی وسعت تبت تک پہنچنے سے کافی فکر مند تھی۔ روسی توسیع سے خطے میں برطانیہ کے مفادات متاثر ہونے کے امکانات تھے۔ ایسے میں انگریزوں کو روسی عزائم اور انٹلی جنس سے واقفیت ضروری تھی۔ ایسے وقت میں غلام رسول گالواں نے برطانیہ کے فوجیوں کو روس کی انٹلی جنس معلومات حاصل کرنے میں معاونت کی تھی۔ ریکارڈس کے مطابق گالوان نے برطانوی حکومت کی تیس برسوں سے زیادہ خدمت انجام دی۔ سن انیس سو سترہ میں گالوان کو چیف اسسٹنٹ آف برٹش جوائنٹ کمشنر برائے لیہہ بنایا گیا تھا۔ سال انیس سو پچیس میں صرف پینتالئس برس کی عمر میں غلام رسول گالوان کا انتقال ہو گیاصلہ تھا۔
دریائے گالوان اپنے ماخذ قراقرم کے پہاڑی سلسلے سے نکل کر 80 کلو میٹر کا فاصلہ طئے کرکے، چین سے ہوتے ہوئے لداخ کے شوک دریا میں شامل ہو کر دریائے سندھ میں جا ملتا ہے۔ وادی گالوان موسم کی مناسبت سے سخت ترین علاقہ ہے۔ سردیوں میں یہاں درجہ حرارت منفی تیس ڈگری سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ گالوان کا یہ علاقہ سطح سمندر سے پانچ ہزار سے سات ہزار فٹ تک ہے۔ یہ علاقہ اتنا سرد ہے کہ اگر سے یہاں مناسب کپڑوں اور سامان کے بغیر کے بغیر عام انسان ہائیوتھر میا کا شکار ہو سکتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے عسکری وتجارتی نقطہ نظر سے ہندوستان اور چین دونوں ممالک کیلئے یہ خطہ کافی اہم ہے۔ پاکستان اور چین کی اقتصادی راہ داری کی سڑک وادی گالوان کے کافی قریب سے گزرتی ہے۔ یہ سڑک گلگت بلتستان سے ہوتے ہوئے کراچی تک جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی وادی گالوان میں چین کی دلچسپی نظر آتی ہے۔
First published: Jun 29, 2020 03:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading