உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیشنل کانفرنس کے نئے صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں میں آئے گی تبدیلی: جانئے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے

    جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نئے صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں میں کس طرح کی تبدیلی  آئے گی  اور PAGD پر  اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ جانئے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے۔

    جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نئے صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں میں کس طرح کی تبدیلی آئے گی اور PAGD پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ جانئے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے۔

    جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نئے صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں میں کس طرح کی تبدیلی آئے گی اور PAGD پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ جانئے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    جموں وکشمیر: ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کی پیشکش کی تاکہ پارٹی کے اندر انتخابات کرائے جائیں۔ پارٹی کے نئے صدر کے کمان سنبھالنے کے بعد نیشنل کانفرنس کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں اور پارٹی کے دیگر غیر بی جے پی جماعتوں خصوصاً پی ڈی پی کے ساتھ سیاسی تعلقات کے حوالے سے کئی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی انتخابات کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق پارٹی صدر کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ یکم دسمبر مقرر کی گئی ہے اور انتخابات 5 دسمبر 2022 کو ہوں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی انتخابات مکمل ہونے تک پارٹی صدر کے عہدے پر برقرار رہنے پر اتفاق کیا۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ پارٹی کا نیا صدر کسے منتخب کیا جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ فاروق عبداللہ کے بیٹے اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کا نیا صدر منتخب کیا جا سکتا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے صدر کی تبدیلی یقینی طور پر نیشنل کانفرنس کے مستقبل کے منصوبوں کو بدل سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے برعکس عمر عبداللہ دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ افہام و تفہیم کے بغیر اکیلے آگے بڑھنے کے لیے پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے۔ معروف سیاسی تجزیہ نگار پرکھشیت منہاس نے اس پیش رفت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ''ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ کی حکمت عملی میں بہت فرق ہے۔

    شردھا قتل کیس: آفتاب نے میدان گڑھی کے تالاب میں پھینکا تھا سر! پولیس نے کرایا خالی

    پلوامہ کے راجپورہ تحصیل ہیڈکوارٹر میں ڈگری کالج میں تعمیراتی کام بند ہونےسےعوام میں تشویش

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ماضی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم عمر عبداللہ کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بغیر آگے بڑھنا چاہیں گے۔ عمر عبداللہ نے وادی کشمیر کی تمام اسمبلی سیٹوں کے حلقہ انچارچ کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ان خیالات کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پی ڈی پی کے ساتھ کسی بھی قسم کا انتخابی اتحاد قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ نیشنل کانفرنس میں صدر کی تبدیلی کا اثر پیپلز الائنس فار گپکر ڈیکلریشن (PAGD) پر پڑے گا"۔منہاس کے مطابق عمر عبداللہ ماضی قریب میں پی اے جی ڈی کی کی سرگرمیوں سے ادھوری بنائے ہوئے دکھے۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ مناسب وقت پر اس اتحاد سے الگ ہوسکتے ہیں۔

    نینشل کانفرنس کی جانب سے PAGD سے دوری اختیار کرنے کا یہ نتیجہ ہوگاکہ یہ اتحاد اپنی مطابقت کھو دے گا"معروف صحافی ایم کے بنگرو کا کہنا ہے" عمر عبداللہ کے لیے یہ ایک مشکل کام ہوگا کہ وہ پارٹی کے تمام لیڈران کو ساتھ لے کر مستقبل کے لیے پارٹی کے منصوبوں کے بارے میں اپنے فیصلہ پر راضی کریں۔ "فاروق عبداللہ کے برعکس،ان کے لیے یہ ایک مشکل کام ہوگا کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ کریں جس کی انہیں مستقبل میں ضرورت پڑسکتی ہے۔"سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس مستقبل میں پی ڈی پی جیسی دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر آگے نہیں بڑھتی تو اس کا فائدہ کشمیر میں بی جے پی کو ہوگا جو وادی کے کئی حصوں میں اپنی بنیاد مضبوط کر رہی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: