ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں میں ویکسنیشن :روہنگیائی باشندوں کو نہیں دی جارہی ہے ویکسین، حکومت کے دعوؤں کی کھلی پول

روہنگیاس کو صحت کے حوالے سے کافی مسائل درپیش ہیں۔اگرچہ کوویڈ کی وبا جموں میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے جس میں کافی اموات ہو رہی ہیں اور ایسے معاملات آ رہے ہیں،لیکن ان روہنگیوں کو ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی ہے۔

  • Share this:

دوسری ریاستوں کی طرح ، مرکزی زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر میں ویکسی نیشن کا عمل زوروں پر ہے کیونکہ یہ مہلک وائرس کووڈ۔19 کو شکست دینے کے لئے واحد ہتھیار ہے۔ جموں ڈویژن میں بھی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 45فیصد سے زائد لوگوں کو 100فیصد ویکسین لگائے گئے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیوں کہ جموں میں سینکڑوں روہنگیائی مسلمان بسے ہیں جو جموں میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ ان کو ابھی تک ویکسین نہیں دی گئی ہے۔ یہ روہنگیاس حکومت سے ناراض نظر آرہے ہیں۔


روہنگیاؤں کا ایک بہت بڑا حصہ جموں کے مضافاتی علاقوں میں کئی برسوں سے کالونیوں میں بسے ہوئے ہیں۔ حکومت نے پہلے ہی ان کی جموں ہجرت کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور میانمار ، برما ، بنگلہ دیش وغیرہ جیسے ممالک میں انہیں آبائی مقامات پر بھیجنے کا عمل پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔ ان روہنگیاس کو صحت کے حوالے سے کافی مسائل درپیش ہیں۔اگرچہ کوویڈ کی وبا جموں میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے جس میں کافی اموات ہو رہی ہیں اور ایسے معاملات آ رہے ہیں،لیکن ان روہنگیوں کو ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی ہے۔ چونکہ حکومت نے انہیں ہندوستان کے شہری کے طور پر قبول نہیں کیا ، لہذا ان میں سے کسی کو بھی ویکسین نہیں لگائی گئی ہے کیونکہ اس کے لئے آدھار کارڈ اور دیگر درست دستاویزات جمع کروانے کی ضرورت ہے جو ان کے پاس نہیں ہیں۔ روہنگیاس کالونیوں میں بھی مبثت معاملے آنے کے باوجود ویکسین نہ لگانے سے یہ لوگ حکومت سے ناراض ہیں۔


روہنگیائی باشندوں کے لیے بنائی گئی بستی کا منظر
روہنگیائی باشندوں کے لیے بنائی گئی بستی کا منظر


ایک روہنگیائی باشندے نے کہا ہم لوگ باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ یہاں باہر کے رہنے والے کو ویکسین نہیں لگ رہی ہے۔ ہم لوگ بھی آخر انسان ہی ہیں ہم لوگوں کو بھی ویکسین لگنی چاہیے۔ حکومت ہماری طرف کوئی بھی دھیان نہیں دے رہی ہے یہ افسوس کی بات ہے۔ایک اور روہنگیا نے نیوز18 کو بتایا اس وقت حکومت کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ہم لوگ باہر سے آئے ہیں۔ کورونا یہ نہیں دیکھ رہا کہ یہ کہاں کا رہنے والا ہے، آخر ہم بھی انسان ہیں ہمیں بھی ویکسین لگنا چاہیے۔

سرکاری عداد و شمار کے مطابق جموں اور سانبھا اضلاع میں روہنگیائی مسلمانوں اور بنگلا دیشی باشندوں سمیت 13700 سے زیادہ غیر ملکی لوگ پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان غیر ملکی افراد کے لئے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی کالونیوں میں عام سہولیات کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا ہے ضروری دستاویزات اور ملک کے باشندے نہ ہونے کے باوجود ان لوگوں کو ویکسین لگانا ضروری ہے۔

ایک سماجی کارکن فرمان علی نے کہا جو روہنگیاس باہر سے آئے ہوئے ہیں ان کے اوپر کوئی بھی دھیان نہیں دے رہا ہے۔ میرا ماننا ہے بیماری نہ مذہب پوچھ کے آتی ہے نہ ہی کاغذات دیکھتی ہے۔ میں لیفٹیننٹ گورنر جموں کشمیر منوج سنہا سے درخواست کرتا ہوں ان کی کالونیوں میں ویکسی نیشن کیمپس لگائے جائیں ان کو بھی ویکسین دی جائے تاکہ جموں جلد سے جلد کورونا سے آزاد ہو جائے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر


اس سلسلے میں جب محکمہ صحت کے عہدیداروں سے بات کی اور جموں انتظامیہ کے نوٹس میں یہ معاملہ لایا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ روہنگیائی باشندوں کو ویکسین لگوانے کے لئے ایک پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے ویکسین کے ذریعے لوگوں کی جان بچانے کے معاملوں میں کسی کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ روہنگیائی باشندے بھی امید کر رہے ہیں حکومت انہیں ویکسین لگانے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لے گی۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 28, 2021 12:40 AM IST