உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں غیر معینہ ہڑتال پر محکمہ بجلی میں کام کر رہے سینکڑوں عارضی ملازمین

    مطابات حل ہونے تک ہڑتال جاری رہے گا ہڑتال۔۔عاضی ملازمین

    مطابات حل ہونے تک ہڑتال جاری رہے گا ہڑتال۔۔عاضی ملازمین

    ان مزدوروں نے ابتدائی طور پر اپنے یونین لیڈروں کی ہدایت پر گزشتہ پیر کو وادی کشمیر کے تمام حصوں میں 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کی تھی، جسے بعد میں مانگیں پوری نہ کرنے پر اس ہڑتال کی کال کو بڑایا گیا اور تاحال یہ ہڑتال ابھی بھی جاری ہے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر میں پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (PDD) کے TDL/PDL (ڈیلی ویجرز) مسلسل 10ویں روز بھی وادی کے مختلف اضلاع میں کام چھوڈ ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں وہی اونتی پورہ، ترال اور جنوبی کشمیر کے دیگر حصوں میں اپنے حقیقی مطالبات کے ازالے کے لیے اپنی ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان مزدوروں نے ابتدائی طور پر اپنے یونین لیڈروں کی ہدایت پر گزشتہ پیر کو وادی کشمیر کے تمام حصوں میں 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کی تھی، جسے بعد میں مانگیں پوری نہ کرنے پر اس ہڑتال کی کال کو بڑایا گیا اور تاحال یہ ہڑتال ابھی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے محکمہ بجلی کا کام کاج بھی بری طرح اثر انداز ہوا ہے T DL/PDL ڈیلی ویجرز یونین کے ممبر محراج الدین نے کہاہے کہ ان ملازمین کی باقاعدہ ریگولرائزیشن کے احکامات جاری کرنے کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اور وہ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ "تمام ملازمین کی اجرت جاری کی جائے۔

    اس کے علاوہ مرنے والے کارکنوں کے افراد خانہ میں سے ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے جو اپنی سے ڈیوٹی کے دوران بجلی کھمبوں سے گر کر ہلاک ہونے ہیں اور جو ملازم ڈیوٹی کے دوران اپاہچ ہوئے ہیں ان کی باز آباد کاری عمل میں لائی جایےکے جبکہ محکمے میں سات سال کی خدمات مکمل کرنے والے کارکنوں کی زیر التواء فائلیں جمع کرائی جائیں اور انہیں مستقیل بنیادیوں پر نوکری فراہم کی جایے۔" ہڑتال پر بیٹھے ایک ملازم نے کہا مزدوروں کے حق میں پانچ ماہ کی زیر التواء اجرت اجراء اور PDL/TDL کارکنوں کے قانونی ورثا کے حق میں SRO-43 کا نفاذ بھی کیا جائے جو بجلی کے حادثے کی وجہ سے فوت ہو گئے تھے۔"انہوں نے مزید کہا کہ "برقی حادثاتی کارکنوں کے قانونی ورثاء کے حق میں جنتا انشورنس کی رہائی اور معاوضہ بھی کارکنوں کا مطالبہ ہے۔



    نیوز ایٹن اردو نے اس حوالے سے ایک اپاہچ عارضی ملازم سے بات کی انہوں نے کہا وہ ایک سال قبل اونتی پورہ میں بجلی کھمبے سے گر گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی ریڈ کی ہڑی ٹوٹ گئی ہے لیکن ابھی محکمہ نے اسے انشورنس پالیسی کا پیسہ تک نہیں دیا ہے انہوں کہا وادی میں دو سو کے قریب ایسے عارضی  ملازم ہیں جو عمر بھر کے لیے اپاہچ بن گیے ہیں اور محکمہ بجلی ان ملازموں کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ قسم پرسی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: