உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderpora Encounter: حیدرپورہ تصادم کی ایس آئی ٹی رپورٹ پر اٹھے سوال، ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا- ہمیں دکھ ہوتا ہے

    جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر حفاظتی عملے کو سال دو ہزار اکیس میں ملٹینسی کے خلاف کاروائیوں میں بڑی کامیابی ملی۔ جموں میں سالانہ میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی پی نے کہا کہ سال دہ ہزار اکیس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف سو آپریشن کئے گئے جس دوران ایک سو 82 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر حفاظتی عملے کو سال دو ہزار اکیس میں ملٹینسی کے خلاف کاروائیوں میں بڑی کامیابی ملی۔ جموں میں سالانہ میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی پی نے کہا کہ سال دہ ہزار اکیس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف سو آپریشن کئے گئے جس دوران ایک سو 82 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر حفاظتی عملے کو سال دو ہزار اکیس میں ملٹینسی کے خلاف کاروائیوں میں بڑی کامیابی ملی۔ جموں میں سالانہ میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی پی نے کہا کہ سال دہ ہزار اکیس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف سو آپریشن کئے گئے جس دوران ایک سو 82 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر حفاظتی عملے کو سال دو ہزار اکیس میں ملٹینسی کے خلاف کاروائیوں میں بڑی کامیابی ملی۔ جموں میں سالانہ میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی پی نے کہا کہ سال دہ ہزار اکیس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف سو آپریشن کئے گئے جس دوران ایک سو 82 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے دوران حفاظتی عملے کے 43 جوان شہید ہوگئے، جن میں سے بیس کا تعلق جموں و کشمیر پولیس سے جبکہ دیگر 23 کا تعلق مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تھا۔ سال دو ہزار اکیس کے دوران چوالیس بڑے دہشت گرد کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا، جن میں سے ستایس کا تعلق لشکر طعیبہ، دس کا تعلق جیش محمد اور دیگر سات کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا۔

    ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ سال دو ہزار اکیس میں 80 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈائیریکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ فی الوقت جموں و کشمیر میں سرگرم ملی ٹنٹوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو جموں وکشمیر میں داخل کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں۔ تاہم فوج اور دیگر حفاظتی عملے کی چوکسی کی وجہ سے زیادہ تر کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

    ڈی جی پی کے مطابق سال دو ہزار اکیس میں صرف  چونتیس دہشت گرد دراندازی کرنے میں کامیاب رہے جبکہ باقی دراندازوں کو کنٹرل لائین اور سرحد پر ہی ڈھیر کردیا گیا۔دلباغ سنگھ نے کہا کہ ملک دشمن سرگرمیاں انجام دینے والے چارسو ستانوے افراد کے خلاف یو اے پی اے کے تحت کیس درج کئے گئے۔نوجوانوں کی ملیٹنٹ صفوں  میں شمولیت کے اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا کہ سال دو ہزار اکیس میں 134 مقامی نوجوانوں نے ملیٹنٹوں میں شمولیت کی تھی جن میں سے 72 دہشت گرد حفاظتی عملے کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں مارے گئے جبکہ 22 دیگر دہشت گردوں کو گرفتارکیا گیا۔ڈی جی پی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر میں دہشتگردی کی معاونت بیجے گئے کروڑوں روپئے کی مالیت کی منشیات اور نقدی ظبط کی گئی۔ اس سلسلے میں دو ہزار چار سو دس افراد کے خلاف کیس درج کر لئے گئے ہیں۔

    ڈی جی پی نے کہا کہ  سال 2021 کے دوران ملٹینسی مخالف آپریشنز میں کسی بھی عام شہری کی موت نہیں ہوئی۔ حیدر پورہ انکائونٹر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حفاظتی عملے پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے جانے سے ہمیں دُکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص اس انکائونٹر کے بارے میں کوئی جانکاری رکھتا ہے اسے تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ رابطہ قائیم کرنا چاہئے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس مانتی ہے کہ حیدر پورہ انکائونٹر میں مارے گئے افراد ملٹینسی کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے۔
    جموں خطے میں ملٹینسی کی سرگرمیوں کا ذکرکرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا کہ پاکستان اس خطے میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر حفاظتی عملہ راجوری اور پونچھ اضلاع میں دہشت گردوں کی دراندازی کو ناکام بنانے کے لئے موثر آپریشن انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کو کنٹرول لائن کے اسپار بیجنے کے لئے ٹنلز وغیرہ کا استعمال کرتا رہا ہے۔ تاہم حفاظتی عملے نے اس کی ان کوششوں کو بھی وقت رہتے ہی ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں میں دہشت گردی کی کاروایاں انجام دینے کے لئے  سٹکی بم استعمال کرسکتا ہے تاہم پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیاں اسکے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے چوکس ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: