உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: محبوبہ مفتی نے ہائی کورٹ ذریعہ گول رامبن کے نوجوان کی قبر کشائی کے حکم کا کیا خیرمقدم، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    J&K News: محبوبہ مفتی نے ہائی کورٹ ذریعہ گول رامبن کے نوجوان کی قبر کشائی کے حکم کا کیا خیرمقدم، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    J&K News: محبوبہ مفتی نے ہائی کورٹ ذریعہ گول رامبن کے نوجوان کی قبر کشائی کے حکم کا کیا خیرمقدم، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    Jammu and Kashmir : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے گول رامبن کے نوجوان کی قبر کشائی کا حکم دینے کا خیر مقدم کیا ہے ۔

    • Share this:
    پلوامہ : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے گول رامبن کے نوجوان کی قبر کشائی کا حکم دینے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے تاہم اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا اور کہا کہ کہ وارثیں کو لاشیں حاصل کرنے کے لئے عدالت کا رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے آج پلوامہ میں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : امرناتھ یاترا 2022 کےسلسلےمیں سیکورٹی امورکا ڈی جی پی جموں وکشمیر نےلیا جائزہ


    اس سے قبل پلوامہ کے نائرہ علاقہ میں محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہا ہوئے پی ڈی پی کے یوتھ لیڈر وحیدالرحمان پرہ سے ملنے کیلئے ان کے گھر گئیں ۔ محبوبہ مفتی نے اس موقعہ پر پارٹی ورکروں سے بھی مختصر تبادلہ خیال کیا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : محبوبہ مفتی کا بڑا الزام-کشمیر میں بے گناہوں کے قتل عام سےمودی حکومت کوکوئی فرق نہیں پڑتا


    محبوبہ مفتی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہوں ۔ عدالت نے انسانیت کی بنیادوں پر اپنا فیصلہ تو سنایا ۔ تاہم یہ بدقسمتی  ہے کہ لاشیں حاصل کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔

    یاد رہے گول رامبن کے رہنے والا عامر ماگرے گزشتہ سال نومبر میں سرینگر کے حیدرپورہ علاقہ میں انکاونٹر میں مارا گیا تھا ، جس کے بعد مقتول کی لاش کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے سونہ مرگ میں دفن کردیا گیا تھا ۔ تاہم گزشتہ روز جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ نے حکومت کو کہا کہ عامر کی لاش اس کے وارثین کے حوالے کردی جائے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: