உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آہ و بکا کے بیچ الطاف احمد اور ڈاکٹر مدثر کو آبائی قبرستان میں کیا گیا دفن، رات کی تاریکی کو چیر گئی اہل خانہ کی چیخ وپکار

    الطاف احمد کی لاش جلوس کی صورت میں قبرستان تک پہنچائی گئی لیکن کسی قسم کا کوئی تشدد یا نعرہ بازی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر مدثر کو پرے پورہ میں دفن کیا گیا۔ دونوں جگہوں پر ہر طرف اہل خانہ کی چیخ و پُکار ، آہ و زاری رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی پورے ماحول کو ماتم زدہ کررہی تھی۔

    الطاف احمد کی لاش جلوس کی صورت میں قبرستان تک پہنچائی گئی لیکن کسی قسم کا کوئی تشدد یا نعرہ بازی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر مدثر کو پرے پورہ میں دفن کیا گیا۔ دونوں جگہوں پر ہر طرف اہل خانہ کی چیخ و پُکار ، آہ و زاری رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی پورے ماحول کو ماتم زدہ کررہی تھی۔

    الطاف احمد کی لاش جلوس کی صورت میں قبرستان تک پہنچائی گئی لیکن کسی قسم کا کوئی تشدد یا نعرہ بازی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر مدثر کو پرے پورہ میں دفن کیا گیا۔ دونوں جگہوں پر ہر طرف اہل خانہ کی چیخ و پُکار ، آہ و زاری رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی پورے ماحول کو ماتم زدہ کررہی تھی۔

    • Share this:
    سرینگر: حیدر پورہ سرینگر میں مارے گئے دو افراد  ( Altaf Bhat and Dr. Mudasir Gul ) کی لاشیں  18 نومبر کی رات اُن کے  لواحقین کے حوالے کردی گئیں جنہیں بعد میں آہ و بکاہ اور سسکیوں کے بیچ سپرد خاک کر دیا گیا۔ واضح ہو کہ 15  نومبر کی شام حیدر پورہ سرینگر  (  hyderpora encounter, Srinagar)  میں مارے گئے الطاف احمد اور ڈاکٹر مدثر کی لاشیں رات بارہ بجے پولیس نے  اُن کے لواحقین کے حوالے کیں۔ اُنھیں سخت ہدایت دی گئی تھی کہ انھیں دفنانے کے وقت صرف نزدیکی رشتہ دار ہی موجود رہنے چاہئے۔  برزلہ میں الطاف احمد کی لاش جلوس کی صورت میں قبرستان تک پہنچائی گئی لیکن کسی قسم کا کوئی تشدد یا نعرہ بازی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر مدثر کو پرے پورہ میں دفن کیا گیا۔ دونوں جگہوں پر ہر طرف اہل خانہ کی چیخ و پُکار ، آہ و زاری رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی پورے ماحول کو ماتم زدہ کررہی تھی۔

    مرحوم الطاف احمد اور ڈاکٹر مدثر کی لاشیں واپس کرنے کا مطالبہ لے کر ان کے اہل خانہ پچھلے تین دن سے احتجاج کررہے تھے۔ سابق وزرائے اعلٰی عمر عبداللہ  اور محبوبہ مفتی سمیت پیپلز کانفرنس  اور دیگر جماعتوں سے لواحقین کو لاشیں واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کل اس انکاؤنٹر کے حقایق عوام تک پہنچانے کے لئے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کی جانچ کا حکم دیا ہےاور ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سرینگر نے اس سلسلے میں  نوٹیفیکیشن جاری کی ہے۔ الطاف احمد اور ڈاکٹر مدثر کو انکاؤنٹر کے بعد سرینگر سے تقریبن  80کلو میٹر دور ہندواڑہ علاقہ میں دفن کیا گیا تھا۔ 18 نومبر کی شام پولیس نے مقامی مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہندواڑہ میں ان دو لاشوں کو قبر سے نکا لا اور سرینگر کے لئے روانہ کیا۔



    تین دن کے وقفہ کے بعد الطاف احمد  اور ڈاکٹر مدثر کو قبروں سے نکالا گیا لیکن انکے جسم یا چہروں میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ واضح رہئے کہ 15 نومبر شام کو حیدر پورہ سرینگر میں انکاؤنٹر میں چار افراد مارے گئے ۔ آئی جی پی سرینگر نے انکاؤنٹر کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مارے گئے افراد میں سے ایک پاکستانی ملی ٹنٹ اور ایک اُس کا ساتھی رامبن کا عامر راتھر شامل ہے۔ مارے گئے دیگر دو افراد کے بارے میں آئی جی پی نے کہا کہ ان میں سے ایک عمارت کا مالک  الطاف احمد اور  دوسرا ڈاکٹر مدثر ہے۔

    الطاف احمد کے بارے میں آئی جی پی نے خود کہا کہ وہ عام شہری تھا لیکن اس کے باوجود اُس کی لاش اُن کے لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی اور اُسے بھی 80 کلو میٹر دور ہندواڑہ میں دفن کیا گیا۔ رامبن کے عامر راتھر کو پولیس نے ملی ٹنٹ کا ساتھی قرار دیا لیکن اُسکے اہل خانہ نے اسے مسترد کیا اور کہا کہ وہ ڈاکٹر مدثر کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ عامر کے والد کا کہنا ہےکہ وہ خود سیکورٹی فورسز کے شانہ بہ شانہ ملٹسی کے خلاف لڑتا رہا ہےاور اس کام کے لئے اُسے میڈل دیا گیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: