உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں شہریوں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی فورسز کی چوکسی، عام شہریوں کے تحفظ پر زور

    منشیات کی اسمگلنگ سے بھی دہشت گردی کی ایک بڑی رقم حاصل کی جا رہی ہے۔

    منشیات کی اسمگلنگ سے بھی دہشت گردی کی ایک بڑی رقم حاصل کی جا رہی ہے۔

    Jammu and Kashmir: نیوز 18 کو معلوم ہوا ہے کہ ایک بار جب تمام سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں خطرے سے دوچار علاقوں اور لوگوں کو لاحق خطرہ کی نشاندہی کر لیں تو مرکزی فورسز سے کہا جائے گا کہ وہ انہیں سیکورٹی فراہم کریں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Hyderabad | Lucknow | Gazipur
    • Share this:
      جموں و کشمیر میں متعدد ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز نے ان شہریوں کی شناخت کے لیے زمینی کام شروع کر دیا ہے جو دہشت گردوں کی ٹارگٹ لسٹ میں ہو سکتے ہیں۔ متعدد ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز نے عام شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے، تاکہ وہ دہشت گروں سے محفوظ رہ سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایجنسیوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی زیر صدارت حال ہی میں سیکورٹی جائزہ اجلاس کے بعد منصوبہ پر کام شروع کیا۔

      ایک اعلیٰ سطحی سرکاری اہلکار نے تصدیق کی کہ اس اجلاس میں منصوبہ بند حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور پیٹرن، ڈیٹا اور دیگر معلومات کا تجزیہ کرکے ممکنہ اہداف کی نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو زمینی سطح کی انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا اور مقامی انتظامیہ کو ان ممکنہ اہداف کے تحفظ متحرک کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس مہینے پہلے ہی ایک میٹنگ ہو چکی ہے۔

      مختلف ایجنسیوں کے عہدیداروں نے کچھ دن پہلے ایک روڈ میپ تیار کرنے اور زمینی سطح کی معلومات اکٹھا کرنے کے لئے جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں گزشتہ سال اکتوبر سے شہری ہلاکتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے این آئی اے کو عام شہریوں کے قتل کے پیچھے بڑی سازش کی تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کرنے کا کام سونپا ہے۔

      ذرائع نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے زیادہ تر واقعات دوپہر یا شام کے وقت ہوتے ہیں۔ یہ پتہ چلا ہے کہ شہریوں کو قتل کرنے کے بعد دہشت گرد موقع سے فرار ہوجاتے ہیں۔ اس منصوبے میں مبینہ طور پر جموں و کشمیر میں تعینات مرکزی پولیس فورسز کے مختلف دفاتر کے اڈے کو ان مقامات پر منتقل کرنا بھی شامل ہے جہاں کمزور آبادی رہتی ہے۔ تربیتی مراکز اور فورسز کے دیگر اڈے جو الگ تھلگ جگہوں پر تھے ان کو بھی ان جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں دیگر فورسز کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔

      جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے چوٹیگام علاقے میں سیب کے باغ میں تین ہفتے قبل ایک کشمیری پنڈت کو گولی مار کر ہلاک اور اس کے بھائی کو زخمی کر دیا گیا تھا۔ اس سال جولائی میں مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے 5 کشمیری پنڈتوں اور 16 دیگر ہندوؤں اور سکھوں سمیت 118 شہری مارے گئے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      نیوز 18 کو معلوم ہوا ہے کہ ایک بار جب تمام سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں خطرے سے دوچار علاقوں اور لوگوں کو لاحق خطرہ کی نشاندہی کر لیں تو مرکزی فورسز سے کہا جائے گا کہ وہ انہیں سیکورٹی فراہم کریں۔ چونکہ کسی ایک فرد کو خصوصی تحفظ فراہم کرنے سے دیگر شہری اعتراض کرسکتے ہیں۔ اس لیے ایجنسیاں مختلف ایکشن پلان بنا رہی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: