உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو معذوری بھی نہیں بنتی رکاوٹ، بینائی سے محروم لا گریجویٹ بنا سرکاری وکیل، جانئے کیسے

    سورج سنگھ پیدائش سے ہی بصارت سے محروم تھے۔  سورج سنگھ کے لئے عام طلبہ کے ساتھ باقاعدہ کلاسوں میں اپنی تعلیم مکمل کرنا کبھی آسان نہیں تھا۔

    سورج سنگھ پیدائش سے ہی بصارت سے محروم تھے۔ سورج سنگھ کے لئے عام طلبہ کے ساتھ باقاعدہ کلاسوں میں اپنی تعلیم مکمل کرنا کبھی آسان نہیں تھا۔

    jammu and kashmir: نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے سورج سنگھ نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ میں مستقل ملازمت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں UT انتظامیہ نے سرکاری وکیل کے طور پر تعینات کیا، تاہم ان کے مطابق وہ اعلیٰ عہدے کے لئے مستحق ہیں۔

    • Share this:
    jammu and kashmir: ضلع کٹھوعہ کے ایک دور دراز علاقے لوہائی ملہار کے رہنے والے سورج سنگھ کو اس سال 19 اپریل کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ جموں میں سرکاری وکیل کے طور پر تعینات کیا گیا۔ سورج سنگھ پیدائش سے ہی بصارت سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم جموں میں لڑکوں کے لیے چلائے جانے والے گورنمنٹ بلائنڈ اسکول میں حاصل کی جس کے بعد انہوں نے شری مہاراجہ پرتاب سنگھ ہائر سیکنڈری اسکول بارہویں جماعت پاس کی۔ انہوں نے جموں یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ سورج سنگھ کے لئے عام طلبہ کے ساتھ باقاعدہ کلاسوں میں اپنی تعلیم مکمل کرنا کبھی آسان نہیں تھا۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہیں کلاس روم میں دیے گئے لیکچرز کو یاد کرنے کے لیے سخت محنت کرنی پڑتی تھی جو کہ بہت سے مواقع پر اتنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ فیکلٹی کے کچھ ارکان اور اس کے دوستوں نے ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ وقت گزار کر مضامین سیکھنے میں ان کی مدد کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بطور وکیل پریکٹس کی۔

    نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے سورج سنگھ نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ میں مستقل ملازمت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں UT انتظامیہ نے سرکاری وکیل کے طور پر تعینات کیا، تاہم ان کے مطابق وہ اعلیٰ عہدے کے لئے مستحق ہیں۔ نیوز18 اردو کے اس نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے سورج سنگھ نے کہا،" میں یہ کہنے کی کوشش کررہا ہوں کہ میں نے راج بھون اور جموں وکشمیر کے چیف جسٹس کے دفتر میں جو عرضی دی تھی وہ میں نے گورنمنٹ گزٹ نوٹیفکیشن 2021 ، جو حکومت ہند کے سماجی انصاف و بہبود محکمہ نے جسمانی طور پر افراد کے حقوق سے متعلق دفعہ کے تحت جاری کئے گئے حکم نامے کے تحت پیش کی گئی تھیں۔ یہ نوٹیفکیشن بتاتی ہیں کہ جسمانی طور پر معذور افراد کو ان سرکاری عہدوں پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق بصارت سے محروم وکالت کا کام انجام دینے والے وکیل یاکسی اور جسمانی معذوری میں مبتلا لوگوں کو ان عہدوں پر تعینات کیا جاسکتا ہے جن عہدوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں بصارت سے محروم وکالت کا کام انجام دینے والے وکیل کو نوٹیفیکیشن کے سیریل نمبر 578 یا 589 کے تحت آنے والے عہدوں پر تقرری ہوسکتی ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ بصارت سے محروم وکیل کو ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل یا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر تعیناتی ہوسکتی ہے۔چونکہ جموں وکشمیر میں ایڈوکیٹ جنرل کا عہدہ خالی نہیں ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر تعینات کیاجائے۔سورج سنگھ کاکہناہے کہ حکومت کو جسمانی طور پر ناخیز افراد کی بہبودی کے لئے مزید اقدامات کرنے چاہے۔ان کاکہناہے کہ حکومت نے عام بچوں کے لئے جموں وکشمیر میں ہزاروں پرائمری اسکول کھولے ہیں تاہم یوٹی میں نابینا لڑکیوں کے لئے ایک بھی مخصوص پرائمری سکول نہیں کھولا گیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: دھمکی آمیز خط کے بعد بارہمولہ کے Kashmiri migrants نے ڈی سی کو پیش کیا میمورنڈم، محفوظ رہائش گاہ کا کیا مطالبہ

    یہ بھی پڑھئے: Jammu and Kashmir: کشمیری پنڈتوں کے خلاف دھمکی آمیز خط کے بعد ڈی سی کو سونپا گیا میمورنڈم

    انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ نابینا لڑکیوں کے لئے خصوصی پرائمری سکول کھولیں تاکہ ایک اچھے ماحول میں بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں،" جموں وکشمیر میں عام بچوں کے لئے ہزاروں پرائمری سکول ہیں جو ایک اچھی بات ہے تاہم نابینا لڑکیوں کے لئے کوئی بھی مخصوص پرائمری سکول نہیں کھولا گیا ہے جو تکلیف دہ ہے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ مرکزی سرکار اور یوٹی انتظامیہ اس جانب توجہ مرکوز کریں تاکہ ہماری بیٹیوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے"جسمانی طور پر ناخیز افراد کے ساتھ عام لوگوں کے رویے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سورج سنگھ کہتے ہیں کہ اگرچہ خاص طور پر معذور افراد بشمول بصارت سے محروم افراد کے حوالے سے معاشرے کی ذہنیت میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، تاہم لوگوں کی سوچ میں مزید مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔تاکہ ایسے افراد اپنے آپ کو سماج میں بہتر زندگی گزار سکیں۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: