உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایرانی سیب کی ملک میں درآمد سے کشمیر کی کولڈ اسٹور انڈسٹری کو نقصان ہونے کا خدشہ

    ملک کی پھل منڈیوں میں کشمیر کے سیب کی مانگ کم اور قیمتوں میں بھاری کمی سے کشمیر کے کولڈ اسٹوروں میں سیب نکالنے کاعمل پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے ۔

    ملک کی پھل منڈیوں میں کشمیر کے سیب کی مانگ کم اور قیمتوں میں بھاری کمی سے کشمیر کے کولڈ اسٹوروں میں سیب نکالنے کاعمل پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے ۔

    ملک کی پھل منڈیوں میں کشمیر کے سیب کی مانگ کم اور قیمتوں میں بھاری کمی سے کشمیر کے کولڈ اسٹوروں میں سیب نکالنے کاعمل پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے ۔

    • Share this:
    ملک میں ایرانی سیب کی درآمد سے کشمیر کے سیب کی پوری ملک میں مانگ کافی کم ہوئی ہے ۔ پہلے اس سے جہاں وادی کشمیر کے میوہ کاشتکار پریشان تھے اب اس سے وادی کشمیر میں جڑے کولڈ اسٹوریج انڈسٹری کو خطراہ لاحق ہوگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ کچھ برسوں سے میوہ صنعت کو بڑھاوا دینے کے لیے مرکزی حکومت نے کشمیر میں کولڈ اسٹور انڈسٹری کو بڑھاوا دینا شروع کردیا تھا جس کے تحت وادی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں قائم سڑکو انڈسٹریل اسٹیٹ لاسی پورہ میں کولڈ اسٹور کا قیام شروع کردیا اس وقت لاسی پورہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں 22کے قریب کولڈ اسٹور قائم ہے جن میں ہر سال ستمبر ماہ سے ایک لاکھ میٹرک ٹن سیب اسٹور ہوتا ہے۔ اگرچہ چار ماہ کے بعد سیب کے میوے کو کولڈ اسٹور سے نکالنے کا عمل شروع ہوتا تھا ۔ لیکن رواں برس اس کے بالکل برعکس ہورہا ہے۔ ملک میں بغیر ٹیکس کے ایران سے سیب کی درآمد سے کشمیر کے سیب کی پوری ملک کی منڈیوں میں مانگ کم ہویی اور قیمتوں میں بھاری گھیراوٹ آیی ہے ۔ جسکی وجہ سے کولڈ اسٹوروں میں رکھا گیا سیب کو منڈیوں تک پہنچانے کا عمل متاثر ہوا جس کی وجہ سے کولڈ اسٹور انڈسٹری سے منسلک افراد کو کافی تشویش پیدا ہوگیا ہے۔

    لاسی پورہ سڈکو انڈسٹریل اسٹیٹ کے ایک کولڈ اسٹور مالک نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوے کہا کہ ایرانی سیب کی درآمد سے کشمیری سیب کی مانگ کم ہونے سے میوہ کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ کولڈ اسٹور انڈسٹری کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڈے گا۔ کولڈ اسٹور انڈسٹری کے کشمیر میں وجود میں آنے سے بے روزگار افراد کے لیے کچھ حدتک روزگار کے وسائل پیدا ہوگیے تھے ۔ سڑکو انڈسٹریل اسٹیٹ کے ایسوسیشن کے عہدیداراں سرور ملک اور ایسوسیشن کے صدر حاجی مظفر احمد نے نیوز18 اردو کے نمایندے بلال خان کے ساتھ بات کرتے ہوے کہا کہ ایرانی سیب کی ملک میں درآمد پوری غیر قانونی ہے ۔ جبکہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایرانی سیب پر ٹیکس عاید کرے ۔ لیکن ٹیکس کے بغیر ایرانی سیب کی ملک میں درآمد سے کشمیر کے اعلاوہ ہماچل کی میوہ صنعت کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

    سڑکو انڈسٹریل اسٹیٹ ایسوسیشن کے عہدیداراں کا کہنا ہے کہ لاسی پورہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں ہزاروں کی تعداد میں تربیت یافتہ پڈھے لکھے افراد کولڈ اسٹور انڈسٹری سے روزگار حاصل کررہے ہیں ۔ ایرانی سیب کی درآمد سے میوہ کاشتکاروں کے اعلاوہ کولڈ اسٹور انڈسٹری سے جڑے کئ افراد کا روزگار متاثر ہوگا ۔ وادی کشمیر کی معیشت میں میوہ صنعت کا کافی اہم رول مانا جاتا ہے ۔ مرکزی اور یوٹی سرکار اگرچہ میوہ صنعت کو بڑھاوا دینے کے کئ اقدامات اٹھارہے ہیں ۔ تاہم وہاں غیر ملکی میوہ جات کی بنا ٹکس کے ملک میں درآمد ہونے سے میوہ صنعت کو کافی نقصان ہونے کا خدشہ لاحق ہورہا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: