உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سری نگر: ٹارگٹ کلینگ میں ایک پولیس اہلکار شہید، کمسن بیٹی بھی زخمی

    جموں وکشمیر کے سری نگر میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکارکو گولی مارکر ہلاک کردیا اور اس کی بیٹی کو زخمی کردیا۔ سری نگر کے صور آنچار علاقے میں دہشت گردوں نے سیف اللہ قادری نامی پولیس اہلکار پر گولیاں چلائیں۔ حملہ میں پولیس اہلکار شدید طور پر زخمی ہوگیا اور ان کی کمسن بیٹی بھی زخمی ہوگئی۔

    جموں وکشمیر کے سری نگر میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکارکو گولی مارکر ہلاک کردیا اور اس کی بیٹی کو زخمی کردیا۔ سری نگر کے صور آنچار علاقے میں دہشت گردوں نے سیف اللہ قادری نامی پولیس اہلکار پر گولیاں چلائیں۔ حملہ میں پولیس اہلکار شدید طور پر زخمی ہوگیا اور ان کی کمسن بیٹی بھی زخمی ہوگئی۔

    جموں وکشمیر کے سری نگر میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکارکو گولی مارکر ہلاک کردیا اور اس کی بیٹی کو زخمی کردیا۔ سری نگر کے صور آنچار علاقے میں دہشت گردوں نے سیف اللہ قادری نامی پولیس اہلکار پر گولیاں چلائیں۔ حملہ میں پولیس اہلکار شدید طور پر زخمی ہوگیا اور ان کی کمسن بیٹی بھی زخمی ہوگئی۔

    • Share this:
    سری نگر: جموں وکشمیر کے سری نگر میں دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکارکو گولی مارکر ہلاک کردیا اور اس کی بیٹی کو زخمی کردیا۔ سری نگر کے صور آنچار علاقے میں دہشت گردوں نے سیف اللہ قادری نامی پولیس اہلکار پر گولیاں چلائیں۔ حملہ میں پولیس اہلکار شدید طور پر زخمی ہوگیا اور ان کی کمسن بیٹی بھی زخمی ہوگئی۔ زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پر ان کی موت ہوگئی۔ پولیس اہلکار کی بیٹی زخمی ہے۔

    بتایا جاتا ہےکہ سیف اللہ قادری اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں گھرکے باہر ہی گولیاں ماری گئیں۔ کشمیر میں ٹارگٹ کلنگس کا سلسلہ کئی مہینوں سے جاری ہے اور پچھلے مہینے ہی اسی علاقے میں پولیس کا ایک ڈرائیور مارا گیا تھا۔ سیکورٹی دستوں نے علاقے کو محاصرہ میں لے لیا ہے۔

    دوسری جانب، پولیس نے اونتی ہورہ میں 8 او جی ڈبلیوز کو گرفتار کرنے کا دعوٰی  کیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں 30 کے قریب پستول اور گراونڈ ورکروں سے برآمد کئے گئے ہیں اور انٹلی جینس اداروں کے مطابق ہاکستان سے بڑی تعداد میں پستول کشمیر میں داخل کروائے گئے ہیں جو ٹارگٹ کلینگس میں عام طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: