உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھدرواہ میں 100 فیصد 45 سالہ لوگوں نے لی ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک، کہا۔ ویکسین ہی ہے کورونا سے لڑنے کیلئے واحد ہتھیار

    اپنے یہاں جیسے ہی ہندوستانی ویکسینیشن کو منظوری دیں یوروپی ممالک : وزارت خارجہ

    اپنے یہاں جیسے ہی ہندوستانی ویکسینیشن کو منظوری دیں یوروپی ممالک : وزارت خارجہ

    ویکسین کو لے کر افواہ پھیلانے والے لوگ ہیں سماج کے دُشمن۔

    • Share this:
    ویکسینبے شک پورے ملک میں کرونا ویکسین کو لے کر افواہوں کا بازار سرگرم رہا لیکن لوگوں کی مثبت سوچ نے پیرو تلے جھوٹ کی زمین کھینچ کر یہ ثابت کردیا کہ ویکسین ہے زندگی کا یقین۔

    جموں کشمیر کے اضافی ضلع بھدرواہ میں بھی کرونا ویکسین کو لے کر جھوٹی افواہیں پھیلائی گئی۔ لیکن اس بیچ کچھ لوگ ایسے تھے جو افواہ پھیلانے والے سماج کے دشمنوں کی باتوں میں آکر ویکسین سے دوری بنانا کر رکھنا ہی بہتر سمجھنے لگے اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ویکسین لینے کو بے قرار تھے۔ جب بھدرواہ میں ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا تو ایسا لگ رہا تھا سماج کے جن دشمنوں نے ویکسین کو لے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی وہ اس میں کامیاب ہوتے نظر آرہے تھے لیکن آہستہ آہستہ جب لوگوں نے ویکسین لگانا شروع کیا تو کچھ ہی وقت میں  45 سال کے اوپر سو فیصد لوگوں نے ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک لے کر یہ بتا دیا کہ ویکسین جان بچانے کے لئے ہے نہ کہ کوئی نقصان دینے کے لئے۔
    اے ڈی سی بھدرواہ راکیش کمار کا کہنا ہے کہ شروعات میں ویکسین کو لے کر جو افواہیں چل رہی تھی اور لوگ ان افواہوں کو سچ مان کر ویکسین لینے سے کترا رہے تھے۔جب ہم نے ویکسینیشن کے کیمپ لگائے تو کافی کم تعداد میں لوگ ویکسین کی خوراک لینے کے لئے آگے آرہے تھے۔ لیکن جیسے جیسے لوگوں میں ویکسین کو لے کر بیداری ہوتی گئی ویسے ویسے لوگ بڑھ چڑھ کر ویکسین کی خوراک لینے کے لئے آگے آنے لگے۔ آج بھدرواہ میں 45 سال کے اوپری 100 فیصد لوگوں کو ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک دے دی گئی ہے۔

    انتظامیہ اور محکمہ صحت ہر ایک شخص تک ویکسین کی خوراک پہنچانے کے لئے کافی سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ نہ صرف شہروں میں بلکہ بھدرواہ کے دور دراز علاقوں میں پہاڑی چراگاہوں میں مقیم گجر بکروال طبقے تک بھی ویکسین پہنچائی جا رہی ہے۔اور گجر طبقہ بھی ویکسین کی خوراک لینے کے لئے پیچھے نہیں ہٹا۔

    اے ڈی سی بھدرواہ نے نیوز18 کو جانکاری دی انتظامیہ نے دور دراز علاقوں میں جگہ جگہ پر ویکسینیشن سنٹرز قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر گھر جاکر لوگوں کو ویکسین کے بارے میں جانکاری بھی دے رہی ہے۔ بھدرواہ  کی چراگاہوں میں جاکر گجر بکر وال طبقے کا اندراج بھی کیا جارہا ہے اور اُن کو ویکسین کی خوراک بھی دی جارہی ہے۔

    محمد اسلم جوکہ خانہ بدوش ہے اُس نے کہا ہمیں ویکسین کا نام سنتے ہی بہت ڈر لگتا تھا۔ کیونکہ طرح طرح کی باتیں کی جارہی تھیں لیکن جب ہمارے پاس ویکسین لگانے کے لئے ٹیم آئی اُنہوں نے ہمیں ویکسین کے بارے میں جانکاری دی اور اس کے بعد کافی گجروں نے ویکسین کی خوراک لے لی۔ اب پوری گجر برادری کو یقین ہوگیا ہے کہ ویکسین سے ہمیں کسی بھی طرح کا کوئی بھی نقصان نہیں ہے۔ میں سب سے التجا کرتا ہوں کہ سبھی گجر لوگ ویکسین لگائیں اور جھوٹی افواہوں میں نہ پڑیں۔

    بھدرواہ کا نوجوان طبقہ  بھی کافی جوش کے ساتھ ویکسین کی خوراک لینے کے لئے  آگے آرہا ہے۔ انتظامیہ نے نیوز18 کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیوز18 نے لوگوں کو ویکسین کے فائدوں سے آگاہ کرنے میں اپنا بھرپور تعاون دیا ہے۔

    چھبیس سالا کرشمہ ٹھاکر نے کہا ہماری عمر کے لوگ ہی زیادہ تر گھروں سے باہر نکلنے کو مجبور ہوتے ہیں۔ کوئی نوکری کے لئے نکلتا ہے، کوئی سامان لینے کے لئے نکلتا ہے۔ اسی لئے ہماری عمر کے لوگوں کو ویکسین کی خوراک لینا بہت ہی ضروری ہے۔ میں سبھی لوگوں سے گزارش کرتی ہوں وہ کسی بھی طرح کی افواہوں پر یقین نہ کریں۔ کیونکہ یہ افواہ پھیلانے والے لوگ  سماج کے دشمن ہیں۔ اسی لئے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان ویکسین کی خوراک لے کر کوویڈ انفیکشن سے بچیں۔

    ۳۹ سالا عارف حلیم خطیب نے بتایا ہم سب کو ویکسین لے کر افواہ پھیلانے والے لوگوں کی پیرو کے نیچے سے زمین کھینچ کر یہ بتانا ہوگا کہ ویکسین زندگی دینے کے لئے ہے۔ ہم سب کو کسی بھی طرح سے چاہے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہو، میڈیا کے ذریعے ہو ویکسین کے فائدوں کو لے کر ایک مہم شروع کرنی چاہیے ۔ تاکہ سبھی لوگ ویکسین لینے سے پیچھے نہ ہٹیں۔

    عارف نے مزید کہا کرونا نے پتا نہیں کتنے ہی لوگوں کے گھروں کے چراغ بھجا دئے۔ اگر ہم اب بھی یہ کہے کہ ویکسین ہمارے لئے safe  نہیں ہے تو ہم ملک کے لئے اپنے رشتے داروں کے لئے،اپنے گھر والوں کے لئے بہت ہی لاپرواہ ہیں۔ کرونا مہاماری کوئی مزاق نہیں ہے جس کو ہم ہلکے میں لیں۔ اس وقت ہمارے پاس اس مہاماری سے بچنے کے لئے صرف ایک ہی ہتھیار ہے تو وہ ہے ویکسین۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: