اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جموں وکشمیر: کووڈ مریضوں کی تعداد میں اچانک دیکھا گیا اضافہ، جموں ضلع میں ایک سو سے زائد افراد کووڈ کے شکار، صورتحال کے پیش نظر جموں ڈویژن میں طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ

    جموں وکشمیر میں کووڈ مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ جموں ضلع میں ایک سو سے زائد افراد کووڈ کے شکار ہوئے۔ صورتحال کے پیش نظر جموں ڈویژن میں ہیلتھ عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

    جموں وکشمیر میں کووڈ مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ جموں ضلع میں ایک سو سے زائد افراد کووڈ کے شکار ہوئے۔ صورتحال کے پیش نظر جموں ڈویژن میں ہیلتھ عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

    جموں وکشمیر میں کووڈ مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ جموں ضلع میں ایک سو سے زائد افراد کووڈ کے شکار ہوئے۔ صورتحال کے پیش نظر جموں ڈویژن میں ہیلتھ عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: ملک کی دیگر ریاستوں کے بعد اب جموں وکشمیر میں بھی کوویڈ سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بدھ کے روز جموں وکشمیر میں کووڈ سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھنے کو ملا۔ یوٹی میں پانچ جنوری کو 418 افراد کورونا سے متاثرہ پائے گئے۔ متاثرہ افراد میں سب سے زیادہ تعداد جموں ضلع میں پائے گئے، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو نو افراد اس وبائی بیماری سے متاثر ہوئے۔

    کورونا وباء سے متاثرہ افراد کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر یوٹی انتظامیہ نے اس وباء کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی اہم فیصلے لئے۔ اسی طرح کے ایک فیصلے کے تحت ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں کے جاری کردہ ایک حکم کے مطابق جموں ڈویژن میں کووڈ-19 کے کیسوں میں اچانک اضافے کے پیش نظر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر اہلکاروں سمیت تمام ہیلتھ سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    حکم نامے کے مطابق تمام چیف میڈیکل آفیسران اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ہنگامی حالات کے پیش نظرڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کے اہلکاروں کے حق میں چھٹی منظور نہ کریں۔ اسی دوران جموں میں چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نےجموں و کشمیر میں کووڈ-19 کی اس سنجیدہ صورتحال کاجائزہ لینے کے لیے ایک  اہم میٹنگ کی صدارت کی انہوں نے محکمہ صحت اور طبی تعلیم سے کہا کہ وہ 2لاکھ کے ہدف تک پہنچنے کے لیے ٹیسٹنگ کو بڑھائےاور RtPCR ٹیسٹوں میں بھی روزانہ اضافہ کریں۔صحت اور طبی تعلیم کے انتظامی سیکرٹریوں، ڈائریکٹر سکمز، ایم ڈی، نیشنل ہیلتھ مشن، ڈائریکٹر جنرل فیملی ویلفیئر، ڈائریکٹر ہیلتھ کشمیر، سرکاری میڈیکل کالجوں کے صدور اور دیگر متعلقہ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔

    جموں وکشمیر میں کوویڈ کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کے معیار کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سکریٹری نے محکمہ صحت پر زور دیا کہ وہ پبلک سیکٹر میں صحت کی سہولیات میں مزید اضافے کی راہیں تلاش کریں۔محکمہ سے مزید کہا گیا کہ وہ طبی سہولیات میں اضافہ کرے۔ محکمہ کو طبی سازو سامان کا ذخیرہ کرنے اور تمام مشینری اور بنیادی طبی ڈھانچے کو تیاری کی حالت میں رکھنے کو بھی کہا گیا۔چیف سکریٹری نے کوویڈ سے بچنے کے راہنما اصولوں کو عام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے ماسک پہننے، سماجی دوری، اور لوگوں کے کسی جگہ جمع ہونے پر ایس او پیز اور کوویڈ اصول نافذ کرنے کی متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ طے شدہ رہنما خطوط پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

    چیف سکریٹری نے مختلف شعبوں کے صدور سے کہا کہ وہ طبی ٹیموں، پیشہ ور افراد کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کریں اور صورتحال اور اقدامات کا بنیادی سطح پرجائزہ لیں، اس کے علاوہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مختلف بحث ومباحثہ اور پروگراموں کے ذریعے سے بیداری مہم چلائیں۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر یوٹی میں COVID-19 کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کے لیےچیف سکریٹری کی صدارت میں ایک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی تشکیل کردہ کمیٹی باقاعدگی سے صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اس سلسلے میں میٹنگیں بھی ہورہی ہیں جن میں جموں و کشمیر میں کوویڈ اور امیکرون کے بڑھتے اضافے کو روکنے کے لیے مناسب روک تھام اور اقدامات کئے جارہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: