உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر کی سیاحتی صنعت کو واپس پٹری پر لانےکی کوششیں جاری، محکمہ سیاحت کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم

    کشمیر کی سیاحتی صنعت کو واپس پٹری پر لانےکی کوششیں جاری، محکمہ سیاحت کی جانب سے کئی مقامات پر ہوا ٹورازم فیسٹیول کا انعقاد

    کشمیر کی سیاحتی صنعت کو واپس پٹری پر لانےکی کوششیں جاری، محکمہ سیاحت کی جانب سے کئی مقامات پر ہوا ٹورازم فیسٹیول کا انعقاد

    جموں وکشمیر کی سیاحتی تشہیر کی غرض سے محکمہ سیاحت نے کشمیر کے کئی مقامات پر فیسٹیولز اور کلچرل شو کا اہتمام کیا۔ ان پروگراموں کا مقصد معاشی طور پر اہم ترین صنعت یعنی سیاحتی صنعت کو واپس پٹری پر لانے کے ساتھ ساتھ کئی خوبصورت مقامات کو دنیا کے سیاحتی نقشے پر لانا یے۔ اسی طرح کے ایک فیسٹیول کا اہتمام جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع ویری ناگ میں ہوا۔ اس فیسٹیول کا مقصد ملک اور بیرون ممالک سے زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو ان مقامات کی جانب راغب کرنا ہے۔

    • Share this:
    سری نگر: جموں وکشمیر کی سیاحتی تشہیر کی غرض سے محکمہ سیاحت نے کشمیر کے کئی مقامات پر فیسٹیولز اور کلچرل شو کا اہتمام کیا۔ ان پروگراموں کا مقصد معاشی طور پر اہم ترین صنعت یعنی سیاحتی صنعت کو واپس پٹری پر لانے کے ساتھ ساتھ کئی خوبصورت مقامات کو دنیا کے سیاحتی نقشے پر لانا یے۔ اسی طرح کے ایک فیسٹیول کا اہتمام جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع ویری ناگ میں ہوا۔ اس فیسٹیول کا مقصد ملک اور بیرون ممالک سے  زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو ان مقامات کی جانب راغب کرنا ہے۔

    گزشتہ دو برسوں کے دوران جموں وکشمیر کی معاشی اعتبار سے اہم ترین صنعت یعنی ٹورازم انڈسٹری بری طرح سے متاثر ہوئی۔ اس صنعت کو نئی روح بخشنے کے لئے اب محکمہ سیاحت اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اسی کڑی کے تحت ویری ناگ اننت ناگ میں ویری ناگ فیسٹیول کا اہتمام ہوا۔فیسٹیول کا مقصد گیٹ وے آف کشمیر"ویری ناگ" کو دنیا کے سیاحتی نقشے پر لانا ہے۔ ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو کا کہنا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے دنیا کا ہر شعبہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے، ایسے میں سیاحتی صنعت بھی کووڈ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی کشمیر کی مناسب تشہیر کے لئے محکمہ نے ہنگامی اقدامات کئے ہیں۔

    محکمہ سیاحت نے کشمیر کے کئی مقامات پر فیسٹیولز اور کلچرل شو کا اہتمام کیا۔
    محکمہ سیاحت نے کشمیر کے کئی مقامات پر فیسٹیولز اور کلچرل شو کا اہتمام کیا۔


    ڈاکٹر جی این ایتو کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پہلگام اور گلمرگ کے علاوہ بھی ایسے بے شمار قدرتی سیاحتی مقامات ہیں، جن کو منظر عام پر لانے کی بے حد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویری ناگ قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے، لیکن اس کے باوجود بھی بہت کم سیاح اس مقام کے بارے میں جانتے ہیں جبکہ ان فیسٹیولز کا مقصد یہی ہے کہ ویری ناگ جیسے خوبصورت مقامات کو مناسب طور پر تشہیر کی جاسکے تاکہ کشمیر آنے والے سیاح ان علاقوں کی جانب بھی رخ کر سکیں۔

    فیسٹیول کے دوران شازیہ بشیر جیسے نامی فنکاروں و دیگر شرکاء نے مختلف موسیقی و تمدنی پروگرام پیش کر کے حاضرین کو محظوظ کیا۔ جبکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں نے ایسے پروگراموں کو خوش آئند قرار دیا۔ دلی سے آئے ویبو نامی سیاح نے کہا کہ وہ آج پہلی بار ویری ناگ آئے ہیں اور یہاں کی خوبصورتی دیکھ کر وہ اور ان کے ساتھی حیران رہ گئے۔ مقامی اوقاف صدر فاروق احمد کے مطابق کشمیر آنے والے سیاحوں کی کافی کم تعداد ہر سال ویری ناگ آتے ہیں، لیکن اس طرح کے پروگرام ویری ناگ جیسے مقامات کا سیاحتی گراف بڑھانے میں کافی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ فاروق احمد نے کہا کہ گنڈولا تعمیر کرانا ان کا دیرینہ مانگ رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ ڈایریکٹر ٹورازم و ایل جی اس حوالے سے ضرور اقدامات اٹھائے گے۔

    خوبصورت مقامات کو منظر عام پر لانے کے علاوہ مزہبی مقامات کو بھی پلگرم ایج ٹورازم کے نقشے پر لانے کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ جنوبی کشمیر میں اسطرح کا کافی مادہ موجود ہے جسکو بروۓکار لانے کیلئے انتظامیہ بھی عملی طور پر کوشاں دکھ رہا ہے۔ ڈی سی اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے کہا کہ شری امرناتھ یاترا کے علاوہ یہاں پر ایسے بہت سے مزہبی مقامات ہیں جنکو مزہبی سیاحت کے دایرے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سخی زین الدین ولی اور بابا حیدر ریشی کی درگاہ پلگرم ٹورازم کے نقشے پر لانے کےلیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کشمیر کی سیاحتی صنعت معاشی اعتبار سے اہم ہے۔ ایسے میں یہاں کی منفی تشہیر کو ختم کرنے اور مثبت پہلووں کو اجاگر کرنے میں متعلقین کا کلیدی رول بے حد ضروری ہے۔
    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں.
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: