உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ازدواجی زندگی، بچوں کی دیکھ۔ریکھ و دیگر گھریلوں مسائل پہنچ رہے ہیں عدالت، قانونی ماہرین فکر مند

    عدالتوں میں طلاق شدہ جوڑوں اور گھریلو تنازعات کے باعث بچوں کی تحویل اور ان کی دیکھ ریکھ کے معاملوں میں ان کے بچے متاثر ہوتے ہیں، کم وقت میں ایسے معاملوں کا نمٹارا لوک عدالت کے ذریعے ہو رہا ہے اور کچھ لوگ انصاف فراہم کرنے کے اس طریقے سے خوش ہیں۔

    عدالتوں میں طلاق شدہ جوڑوں اور گھریلو تنازعات کے باعث بچوں کی تحویل اور ان کی دیکھ ریکھ کے معاملوں میں ان کے بچے متاثر ہوتے ہیں، کم وقت میں ایسے معاملوں کا نمٹارا لوک عدالت کے ذریعے ہو رہا ہے اور کچھ لوگ انصاف فراہم کرنے کے اس طریقے سے خوش ہیں۔

    عدالتوں میں طلاق شدہ جوڑوں اور گھریلو تنازعات کے باعث بچوں کی تحویل اور ان کی دیکھ ریکھ کے معاملوں میں ان کے بچے متاثر ہوتے ہیں، کم وقت میں ایسے معاملوں کا نمٹارا لوک عدالت کے ذریعے ہو رہا ہے اور کچھ لوگ انصاف فراہم کرنے کے اس طریقے سے خوش ہیں۔

    • Share this:
    کولگام : وادی کشمیر میں شادی شدہ جوڑوں کی ازدواجی زندگی کے تنازعات میں روز بہ روز اضافہ ہونے کی وجہ سے بیشتر جوڑے عدالتوں کا رُخ کررہے ہیں، اس سب میں متاثرہ بچوں پر نفسیاتی دباؤبڑھ رہا ہے، اور ایسے میں لوک عدالتوں کا رول مثبت اور کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔ عدالتوں میں ایسے جذباتی مناظر شاید ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں طلاق شدہ والدین اپنے بچوں کی تحویل اور دیکھ ریکھ کے معاملات کو لیکر انصاف حاصل کرنے کی دوڈ میں ہوتے ہیں۔ سگے بھائی بہن 14 سال کے بعد کورٹ روم میں جا ملے ، ایک باپ اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے بے تاب ہے اور سالوں کے بعد اسے اپنی بیٹی سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ۔

    میاں بیوی میں جگھڑا اور بچے کو دیکھنے کے لیے عدالت کا سہارا لیا گیا۔ قانون دانوں کے مطابق ایسے کیسوں میں سالوں لگ جاتے ہیں تاہم سپریم کورٹ کی ہدایت کے چلتے لوک عدالتوں کا اہتمام ہونے کے ساتھ ہی رشتے استوار ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں طلاق شدہ جوڑوں اور گھریلو تنازعات کے باعث بچوں کی تحویل اور ان کی دیکھ ریکھ کے معاملوں میں ان کے بچے متاثر ہوتے ہیں، کم وقت میں ایسے معاملوں کا نمٹارا لوک عدالت کے ذریعے ہو رہا ہے اور کچھ لوگ انصاف فراہم کرنے کے اس طریقے سے خوش ہیں۔ عدالتوں میں جن لوگوں کے کیس زیر سماعت ہیں وہ سب لوک عدالت کے رول کی سراہنا کر رہے ہیں کیونکہ انہیں جلد انصاف فراہم ہو رہا ہے ادھر بار ایسوسی ایشن ، کولگام کے صدر محمد شفیع کا کہنا ہے کہ ایسے معاملوں میں سالوں سال لگ جاتے تھے تاہم ایسی عدالتوں نے انصاف کو آسان کر دیا ہے۔

    یہ بھی پڑھئے: IPL 2022: عمران ملک کی رفتار کا قہر! باؤنسر سے چاروں کھانے چت ہوا بلے باز: ویڈیو دیکھیں
    چیر مین ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کولگام ، طاہر خورشید رینہ کے مطابق ایسے مسایل اور کیسوں کو لیکر فکر مند ہیں، انکا کہنا ہے کہ عدالتوں میں ایسے کیسوں سے سماج کے اندر نئ بیماریاں جنم لیتی ہیں اور والدین کے ساتھ ساتھ بچوں پر غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    مزید پڑھئے: ٹیرر فنڈنگ کیس میں Yasin Malik قصوروار قرار، NIA کی خصوصی عدالت نے سنایا بڑا فیصلہ

    عدالتوں میں ایسے کیسوں کا نپٹارا صرف لوک عدالت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے کیونکہ قانونی داوٴ پیچ میں لوگوں کو دہاییاں لگ جاتی ہیں ، قانونی ماہرین کا کہنا ہے گھریلو تنازعات ، بچوں کی تحویل اور دیگر چھوٹے مسایل کاتدارک گھریلو سطح پر کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسے کیس عدالت میں لانے سے خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: