ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر میں ہاوس بوٹ اور دیگر کشتیوں کی تعمیر اور ان کی مرمت کا کام جاننے والے ہنرمند کاریگر آج بھی موجود

کشمیر میں کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس کام سے جڑے ہیں جو دوسرے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے باعث ترغیب بن رہے ہیں۔

  • Share this:
وادی کشمیر میں ہاوس بوٹ اور دیگر کشتیوں کی تعمیر اور ان کی مرمت کا کام جاننے والے ہنرمند کاریگر آج بھی موجود
کشمیر میں ہاوس بوٹ کی تعمیر اور اس کی مرمت کرنے کا کام جاننے والے ہنر مند کاریگر آج بھی موجود

سری نگر۔ وادی کشمیر میں ہاوس بوٹ اور دیگر کشتیوں کی تعمیر اور ان کی مرمت کے لئے  آج بھی ہنرمندکاریگر  موجود ہیں۔ کشمیر میں کشتی بنانے کا فن صدیوں پرانا ہے۔ لیکن، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کشتی سازی کی تکنیک اور اس میں استعمال ہونے والے اوزاروں نے جدت اختیار کرلی ہے۔ یہ کام انتہائی مہارت اور اچھا خاصا تجربہ مانگتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں کشتی سازی کے لئے کمپیوٹر اور جدید آلات کی مدد لی جاتی ہے، وہیں کشمیر  میں کشتی بنانے کے فن میں ماہر کاریگر آج بھی اپنے ہاتھوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والے طریقہ کار پر انحصار کرتے ہیں۔


کشمیر میں بہت سارے مقامی ہنرمند یہ کشتیاں اپنے آباو اجداد سے سیکھے ہوئے طریقے کے مطابق بناتے چلے آرہے ہیں ۔ ایسا ہی کچھ  بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان غلام حسین نے کر دکھایا۔ غلا م حسین نامی کاریگر نے نیوز 18اردو کو بتایا کہ انہیں جب  اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی نوکری نہیں ملی تو انہوں نے اپنے والد سے یہ کام سیکھ کر اپنا روزگار کمانا  شروع کر دیا۔ انہوں نے مزید بتایا  کہ پوری وادی سے انہیں  کشتی بنانے کے آرڈر ملتے ہیں ۔ ضلع  بانڈی پورہ کے  سمبل  سوناواری کے اندر کوٹ  علاقے سے تعلق رکھنے والے  غلام حسین نامی اس نوجوان نے درجن بھر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو یہ کاریگری سکھائی اور آج بھی ان کے ذریعے سے کئی لوگوں کو روزگار فراہم ہوتا ہے۔


غلام حسین ان دنوں  شمالی  کشمیر کے پٹن میں جھیل کے کنارے  کشتی بنانے کے کام میں مصروف ہیں۔ کشتی سازی بذاتِ خود ایک مشقت طلب کام ہے۔ ان سارے مراحل سے گزر کر ایک کشتی پانی کی لہروں کا سینہ چیر کرکام کی تلاش کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ اتنی مشقت کے بعد بھی یہ کاریگر مایوس نظر آتے ہیں۔ غلام حسین کے علاوہ دیگر کاریگروں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے دستکاری کے فروغ کے لیے حکومت نے مختلف اسکیمیں متعارف کی ہیں اور مزید  اقدامات بھی کئے جاتے ہیں اسی طرح کشتی بنانے والوں جیسے  کاریگروں  کے لئے بھی  اسکیمیں متعارف ہونی چاہئیں۔ اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے والے غلام حسین  وادی کے  اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ صرف نوکری کی تلاش میں نہ رہیں بلکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر اس طرح کے کسی بھی کام کو شروع کریں ۔کشمیر میں تیار ہونے والی کشتیاں  اعلیٰ  معیار کی ہوتی ہیں۔کشتی کی تعمیر میں عموماًکشمیری دیودار  کی لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں لوگ  زیادہ تر کشتی کا استعمال دریاؤں اور ندی نالوں سے ریت نکالنے میں کرتے ہیں۔ وہیں ڈل جھیل اور جھیل ولر اور دوسری چھوٹی بڑی جھیلوں میں بھی  لوگ ان کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں ۔مچھلیاں پکڑنے میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ صدیوں پرانی اس صنعت کو زندہ رکھنے اور ا س کام  سے جڑے  کا ریگروں کے فروغ کے لئے اقدامات کرے۔


 
First published: Jul 01, 2020 03:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading