ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

اری سیکٹر میں کنٹرول LoC کے قریب دیہات سمیت دیگر علاقوں میں 100 فیصدی ویکسینیشن مکمل

بی ایم او بونیار ڈاکٹر پرویز مسعودی نے پہل کر کے علاقے کے دشوار گزار دیہات میں آباد لوگوں کی ٹیکہ کاری انجام دینے کے لیے گھر گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

  • Share this:
اری سیکٹر میں کنٹرول LoC کے قریب دیہات سمیت دیگر علاقوں میں 100 فیصدی ویکسینیشن مکمل
بی ایم او بونیار ڈاکٹر پرویز مسعودی نے پہل کر کے علاقے کے دشوار گزار دیہات میں آباد لوگوں کی ٹیکہ کاری انجام دینے کے لیے گھر گھر جانے کا فیصلہ کیا۔

جموں کشمیر:- شمالی کشمیر کے بارہ مولہ ضلع میں کنٹرول لائن کے قریب آباد لوگوں کو کورونا وبا سے بچانے کےلئے محکمہ صحت کے بونیار ہیلتھ بلاک کی طرف سے شروع کردہ ٹیکہ کاری مہم کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ بی ایم او بونیار ڈاکٹر پرویز مسعودی نے پہل کر کے علاقے کے دشوار گزار دیہات میں آباد لوگوں کی ٹیکہ کاری انجام دینے کے لیے گھر گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ، جو 22 مارچ 2021 سے لوگوں کے گھروں تک پہنچ کر انکو ٹیکہ لگا رہے ہیں۔

ایمونائزیشن انچارج سید شفقت حسین گیلانی نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہم کو کامیاب بنانے کےلئے بونیار میڈیکل بلاک کو دو زونوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر ایک زون میں 6 اہلکاروں پر مشتمل ٹیم گھر گھر جا کر لوگوں کو کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کےلئے ٹیکہ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میڈیکل بلاک میں زیادہ تر ایسے علاقے ہیں جہاں میڈیکل ٹیموں کو پائدل سفر کرنا پڑتا ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن ٹیم میں شامل افراد پر روز لگ بھگ 10 کلومیٹر سفر پائدل طے کرتے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ مہم کے دوران اوڑی سیکٹر میں کنٹرول لائن کے قریب واقع سمالی ، چوٹالی، گگر ہل، باغ ددرن ، گواس، لچھی پورہ اور کورالی سمیت بلاک کے دیگر علاقوں میں 45 برس سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے۔ بی ایم او بونیار ، ڈاکٹر پرویز مسعودی نے کہا چونکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور لگ بھگ 70 فی صد دیہات میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے اسی لئے انہوں نے لوگوں کا انتظار کرنے کے بجائے خود ان تک پہنچنے کی پہل کی۔




ڈاکٹر مسعودی نے کہا کہ ابتداء میں لوگ کئ میڈیکل وجوہات کی بنا پر ٹیکہ لگوانے سے کتراتے تھے تاہم لگاتار کوششوں کے بعد لوگوں کو ٹیکہ لگوانے کے لئے رضامند کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو راضی کرنے کے لیے علاقے کے آئمہ صاحبان ، ذی شعور اشخاص نیز پنچایت اداروں کے نمایندوں کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ڈاکٹر پرویز مسعودی نے کہا کہ محکمہ مال کے اعداد و شمار کے مطابق میڈیکل بلاک بونیار کی آبادی 80 ہزار ہے جن میں سے 45 برس سے زائد عمر والے افراد کی تعداد 16 ہزار ہے۔ انہوں نے کہا 3 ماہ قبل شروع کی گئ اس مہم کے دوران تمام 16 ہزار افراد کو ویکسینیشن کی پہلی خوراک فراہم کی گئ، جبکہ 18 سے 44 سال کی عمر تک کے لگ بھگ 2700 افراد جن میں دکاندار ، ڈرائیور ، صحافی اور مزدور وغیرہ شامل ہیں کو بھی ویکسین کی پہلی ڈوز دی گئ ہے۔



بونیار ہیلتھ بلاک کی اس کوشش کا عام لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ ایل او سی کے بالکل قریب واقع کورالا گاؤں کی اشرفہ نامی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اس اقدام سے کافی خوش ہیں کیونکہ اس دور دراز علاقے میں طبی سہولیات کم ہیں جسکی وجہ سے ٹیکہ کاری کے عمل میں دشواریاں پیش آ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پہل گاؤں کے لوگ ٹیکہ کاری سے کتراتے تھے لیکن محکمہ صحت کے اہلکاروں کی طرف سے ویکسینیشن کی اہمیت سمجھانے کے بعد گاؤں کے لوگوں نے ویکسین لگوانے کےلئے حامی بھر لی۔


پیشے سے استاد پیر میاں گاؤں کے مشتاق احمد نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ بی ایم او بونیار کی طرف سے کی گئ یہ پہل علاقے کے لوگوں کےلئے بارآور ثابت ہوئ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آۓ روز ذرایع ابلاغ بشمول ٹیلی ویژن پر دیکھا جاتا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں میں ویکسینیشن کےلئے لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے تاہم محکمہ صحت کے اہلکار خود انکی دہلیز تک پہنچ گئے اور اسطرح بزرگ اور جسمانی طور معزور افراد سمیت تمام لوگوں کو بہ آسانی ٹیکہ لگوانے کی سہولت میسر رہی۔
واضح رہے کہ محکمہ صحت کے بونیار بلاک کی طرف سے مقامی آبادی کے علاؤہ علاقے میں قائم نیشنل ہائڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کے اہلکاروں اور وہاں تعینات سی آئ ایس ایف کے جوانوں و افسران کی ٹیکہ کاری بھی انجام دی گئ ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 27, 2021 07:42 PM IST