உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یٰسین ملک سے ہمدردی کیوں؟ اسلامی ممالک کی تنظیم کے بیان پر ہندوستان نے ظاہر کیا اعتراض

    Yasin Malik: یٰسین ملک کی سزا کو لے کر اسلامک تعاون تنظیم کے ذریعہ کورٹ کے فیصلے کی تنقید کرنے پر ہندوستانی حکومت نے سخت احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مرکز نے جمعہ کے روز کہا کہ او آئی سی کا یہ تبصرہ ناقابل قبول ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹولرینس چاہتی ہے اس لئے ہم او آئی سی سے گزارش کرتے ہیں کہ یٰسین ملک کی سزا کو کسی بھی طرح سے نامناسب نہ ٹھہرایا جائے۔

    Yasin Malik: یٰسین ملک کی سزا کو لے کر اسلامک تعاون تنظیم کے ذریعہ کورٹ کے فیصلے کی تنقید کرنے پر ہندوستانی حکومت نے سخت احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مرکز نے جمعہ کے روز کہا کہ او آئی سی کا یہ تبصرہ ناقابل قبول ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹولرینس چاہتی ہے اس لئے ہم او آئی سی سے گزارش کرتے ہیں کہ یٰسین ملک کی سزا کو کسی بھی طرح سے نامناسب نہ ٹھہرایا جائے۔

    Yasin Malik: یٰسین ملک کی سزا کو لے کر اسلامک تعاون تنظیم کے ذریعہ کورٹ کے فیصلے کی تنقید کرنے پر ہندوستانی حکومت نے سخت احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مرکز نے جمعہ کے روز کہا کہ او آئی سی کا یہ تبصرہ ناقابل قبول ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹولرینس چاہتی ہے اس لئے ہم او آئی سی سے گزارش کرتے ہیں کہ یٰسین ملک کی سزا کو کسی بھی طرح سے نامناسب نہ ٹھہرایا جائے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: یٰسین ملک (Yasin Malik) کے معاملے میں اسلامک تعاون تنظیم (Organisation of Islamic Cooperation) کے ذریعہ عدالت کے فیصلے کی تنقید کرنے پر ہندوستان نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز کہا کہ او آئی سی کا یہ تبصرہ ناقابل قبول ہے۔ اس سے متعلق ہندوستانی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یٰسین ملک کو سزا کورٹ میں دیئے گئے شواہد اور ثبوتوں کے بنیاد پر دی گئی ہے۔

      دراصل، اسلامک تعاون تنظیم کی حقوق انسانی کمیشن نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث یٰسین ملک کے تئیں ہمدردی ظاہر کی تھی۔ اس کے جواب میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹولرنس چاہتی ہے، اس لئے ہم او آئی سی سے گزارش کرتے ہیں کہ یٰسین ملک کی سزا کو کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ٹھہرایا جائے۔

      اس سے قبل جمعرات کو اسلامک گروپ کی حقوق انسانی ونگ نے یٰسین ملک کو قصور وار ٹھہرائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ منظم ہندوستانی تعصب اور کشمیری مسلمانوں کے استحصال کو ظاہر کرتا ہے۔ او آئی سی آئی پی ایچ آرسی ہندوستان میں فرضی مقدمے کے بعد من گھڑت الزامات میں کشمیری لیڈر یٰسین ملک کی غیر قانونی سزا کی مذمت کرتا ہے‘۔

      ’قصوروار کشمیریوں کے خلاف حقوق انسانی کی خلاف ورزی‘

      اسلامک تعاون تنظیم کی حقوق انسانی کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ‘قصوروار کشمیریوں کے خلاف حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں کو ان کے خود ارادیت کے جائز حق سے محروم کرنا ہے۔ یہ نہ صرف ہندوستانی انصاف کا مذاق ہے بلکہ جمہوریت کے دعووں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

      واضح رہے کہ یٰسین ملک کو ٹیرر فنڈنگ معاملے میں دہلی کی کورٹ نے بدھ کو عمرقید اور 10 لاکھ روپئے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ کورٹ کے جج نے اپنے تبصرہ میں کہا تھا کہ یٰسین ملک نے 1994 میں ہتھیار ڈال دیئے تھے، لیکن وہ مسلسل کشمیر وادی میں تشدد کی حمایت کرتا رہا۔

      یٰسین ملک کو اپنے کئے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے، جن جرائم کے تحت یٰسین ملک کو قصور وار پایا گیا ہے اور وہ سنگین علامت کے ہیں۔ ان جرائم نے سیدھے ہندوستان کے دل کو چوٹ پہنچائی اور کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کی کوشش کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: