உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں OIC اجلاس میں کشمیر پربیان سے ہندوستان ناراض، چینی وزیر خارجہ کو دیا تلخ جواب

    اسلامک ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) میں چین کی طرف سے کشمیر کا ذکر کئے جانے پر ہندوستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے جس طرح سے کشمیر (Kashmir) کا ذکر کیا، وہ بالکل غیر ضروری تھا۔ ہم اسے خارج کرتے ہیں۔

    اسلامک ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) میں چین کی طرف سے کشمیر کا ذکر کئے جانے پر ہندوستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے جس طرح سے کشمیر (Kashmir) کا ذکر کیا، وہ بالکل غیر ضروری تھا۔ ہم اسے خارج کرتے ہیں۔

    اسلامک ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) میں چین کی طرف سے کشمیر کا ذکر کئے جانے پر ہندوستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے جس طرح سے کشمیر (Kashmir) کا ذکر کیا، وہ بالکل غیر ضروری تھا۔ ہم اسے خارج کرتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اسلامک ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) میں چین کی طرف سے کشمیر کا ذکر کئے جانے پر ہندوستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں او آئی سی کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے جس طرح سے کشمیر (Kashmir) کا ذکر کیا، وہ بالکل غیر ضروری تھا۔ ہم اسے خارج کرتے ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور چین سمیت کسی بھی تیسرے ملک کا اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا ہے۔

      Organisation of Islamic Cooperation کی تشکیل دنیا میں مسلم ممالک کی آواز بلند کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد بین الاقوامی امن وامان اور خوشحالی کو قائم رکھتے ہوئے مسلم دنیا کے مفاد کی دفاع کرنا ہے۔ 57 رکنی اس باڈی کی وزرائے خارجہ کونسل کا دو روزہ سیشن اسلام آباد میں 22 اور 23 مارچ کو ہوا۔

      منگل کے روز افتتاحی سیشن میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی کے اسٹیج سے کشمیر کا راگ الاپا تھا۔ عمران خان (Imran Khan) نے کہا تھا کہ ہم ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں، لیکن کشمیر اور فلسطین کا موضوع حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارا کشمیر پر کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے غیر قانونی طریقے سے کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کردیا، لیکن کچھ نہیں ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پاکستانی PM عمران خان پر پاکستانی الیکشن کمیشن نے لگایا 50 ہزار کا جرمانہ

      ہندوستان نے کہا، کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ

      اس میٹنگ میں موجود چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی کشمیر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’کشمیر پر ہم نے پھر سے اپنے کئی اسلامی دوستوں کی پکار سنی ہے۔ چین بھی ایسی ہی امید رکھتا ہے‘۔ اس پر اب ہندوستان کے وزارت خارجہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزارت کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ او آئی سی کے افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ہندوستان کو لے کر جو حوالہ دیا، وہ غیر ضروری تھا اور ہم اسے خارج کرتے ہیں۔ ارندم باغچی نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر کا معاملہ پوری طرح سے ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ چین سمیت دیگر ممالک کو اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہیں دھیان دینا چاہئے کہ ہندوستان بھی ان ممالک کے اندرونی مسئلوں پر عوامی بیان دینے سے پرہیز کرتا ہے۔

      چینی وزیر خارجہ کا ہندوستان دورہ جلد؟

      ہندوستان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے، جب چین کے وزیر خارجہ 24 مارچ کو دو دن کے لئے دہلی دورے پر آنے کی خبر ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا یہ ممکنہ سفر یوکرین پر روسی حملے سے متعلق دنیا میں مچی اتھل پتھل کے درمیان ہو رہی ہے۔ دنیا میں چین اور ہندوستان ہی ہیں، جو کھل کر روس کی مخالفت میں نہیں بول رہے ہیں۔ اسے لے کر امریکہ سمیت کئی ممالک میں گہری ناراضگی بھی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: