உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے جموں وکشمیر حد بندی پر پاکستان کی تجویز کو کیا مسترد، بتایا حیران کن اور مضحکہ خیز

    وزارت خارجہ نے اپنے جواب میں کہا ہے، ’ہم جموں وکشمیر میں حدبندی پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے ذریعہ پیش مضحکہ خیز تجویز کو واضح طور پر قبول نہیں کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہندوستانی علاقوں (پی اوکے) پر غیرقانونی قبضے سمیت ہندوستان کے داخلی معاملوں میں فیصلہ لینے یا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    وزارت خارجہ نے اپنے جواب میں کہا ہے، ’ہم جموں وکشمیر میں حدبندی پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے ذریعہ پیش مضحکہ خیز تجویز کو واضح طور پر قبول نہیں کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہندوستانی علاقوں (پی اوکے) پر غیرقانونی قبضے سمیت ہندوستان کے داخلی معاملوں میں فیصلہ لینے یا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    وزارت خارجہ نے اپنے جواب میں کہا ہے، ’ہم جموں وکشمیر میں حدبندی پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے ذریعہ پیش مضحکہ خیز تجویز کو واضح طور پر قبول نہیں کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہندوستانی علاقوں (پی اوکے) پر غیرقانونی قبضے سمیت ہندوستان کے داخلی معاملوں میں فیصلہ لینے یا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر میں ڈیلیمیٹشن یا حد بندی کے عمل پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے ذریعہ پیش کی گئی تجویز کو لے کر ہندوستان نے دو ٹوک جواب دیا ہے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے اس سے متعلق جانکاری دی ہے۔ وزارت خارجہ نے اپنے جواب میں کہا ہے، ’ہم جموں وکشمیر میں حدبندی پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے ذریعہ پیش مضحکہ خیز تجویز کو واضح طور پر قبول نہیں کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہندوستانی علاقوں (پی اوکے) پر غیرقانونی قبضے سمیت ہندوستان کے داخلی معاملوں میں فیصلہ لینے یا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

      پاکستان کے وزارت خارجہ نے گزشتہ 6 مئی کو جموں وکشمیر میں حد بندی عمل پر اعتراض ظاہر کیا تھا اور ہندوستان کے انچارج ہائی کمشنر کو طلب کیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے جموں وکشمیرکی حد بندی سے متعلق تشکیل دی گئی کمیشن کی رپورٹ کو خارج کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنا اور انہیں ریاست میں کمزور کرنا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے اپنے ملک کی قومی اسمبلی میں ایک تجویز پیش کرکے جموں وکشمیر کی حد بندی کو مسترد کردیا تھا۔



      ہندوستان نے بین الاقوامی برداری سے واضح طور پر کہا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ کے ذریعہ 2019 میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنا اس کا داخلی معاملہ تھا۔ جموں وکشمیر ہمیشہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا ہے اور بنا رہے گا۔ ہندوستان نے پاکستان کو حقیقت قبول کرنے اور اپنا پروپیگنڈہ بند کرنے کا مشورہ دیا۔

      اس سے قبل جموں وکشمیر میں حد بندی کو لے کر اسلامک تعاون تنظیم (OIC) نے تبصرہ کیا تھا، جس پر ہندوستان نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے گزشتہ پیر کو کہا تھا کہ اوآئی سی (OIC) نے ہندوستان کے داخلی معاملوں پر غیر مناسب تبصرہ کیا ہے۔ جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور غیرمنقسم حصہ ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: