உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: فوج نے اری میں پکڑا پاکستانی دہشت گرد، دراندازی کرتے ہوئے ایک دہشت گرد کو کیا ہلاک، بھاری گولہ بارود برآمد

    جموں وکشمیر: فوج نے اری میں پکڑا پاکستانی دہشت گرد، دراندازی کرتے ہوئے ایک کو کیا ہلاک، بھاری گولہ بارود برآمد

    جموں وکشمیر: فوج نے اری میں پکڑا پاکستانی دہشت گرد، دراندازی کرتے ہوئے ایک کو کیا ہلاک، بھاری گولہ بارود برآمد

    Jammu Kashmir: پکڑے گئے دہشت گرد کا نام علی بدر پاترا ہے۔ وہ پاکستان کے پنجاب صوبہ کا باشندہ ہے۔ اس نے پوچھ گچھ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسے لشکر طیبہ سے مظفر آباد میں ٹریننگ ملی تھی اور وہ اس دہشت گرد تنظیم کا رکن ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: ہندوستانی فوج (Indian Army) نے ایک بار پھر پاکستان (Pakistan) کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کیا ہے۔ فوج کی طرف سے دی گئی جانکاری کے مطابق، جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کی اری سیکٹر میں ایک پاکستانی دہشت گرد کو مار گرایا ہے، جبکہ ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ فوج نے یہ کارروائی اری سیکٹر (Uri Sector) میں چلائے گئے بڑے آپریشن کے دوران 25 ستمبر کو انجام دیا ہے۔ فوج کو ان دہشت گردوں کے پاس بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود ملے ہیں۔ ان میں 7 اے کے زمرے کی رائفل، 9 پسٹل- ریوالور، 80 سے زیادہ گرینیڈ کے علاوہ ہندوستانی اور پاکستانی کرنسی بھی شامل ہیں۔

      فوج کی طرف سے اس آپریشن کو لے کر منگل کو پریس کانفرنس کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 18 ستمبر کو فوج کی گشتی ٹیم نے اری سیکٹر میں ایل او سی پر دراندازی ہوتی دیکھی۔ اس کے بعد انکاونٹر شروع کیا گیا۔ کل 6 میں سے 4 دہشت گرد سرحد کے اس پار تھے، جبکہ دو دہشت گرد اس پار آگئے تھے۔ انہیں پکڑنے کے لئے 9 دن لمبا آپریشن چلایا گیا۔

      ہندوستانی فوج نے کہا ہے کہ پکڑے گئے دہشت گرد کا نام علی بدر پاترا ہے۔ وہ پاکستان کے پنجاب صوبہ کا باشندہ ہے۔ اس نے پوچھ گچھ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسے لشکر طیبہ سے مظفر آباد میں ٹریننگ ملی تھی اور وہ اس دہشت گرد تنظیم کا رکن ہے۔ گولی باری کے دوران 4 دہشت گرد رات کی تاریکی اور گھنے جنگلات کا فائدہ اٹھاکر پاکستان کی طرف واپس بھاگ گئے۔ ہندوستانی علاقے میں گھسے دو دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے اضافی فورس تعینات کی گئی تھی۔

      فوج نے جانکاری دی ہے کہ جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان دہشت گردوں کو تین پورٹر بھی سامان لانے کے لئے دستیاب کرائے گئے تھے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سرحد پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت بغیر پاکستانی فوج کی پناہ کے نہیں ہوسکتی ہے۔ فوج کے مطابق، دراندازی کی یہ کوشش اری کے سلام آباد نالہ علاقے میں ہوئی ہے۔ اسی علاقے میں سال 2016 میں بھی دراندازی ہوئی تھی۔ اس کے بعد خودکش حملے کو انجام دیا گیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: