ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

48 سال پہلے مارے گئے فوجی کو نہیں لے گیا پاکستان، ہندستانی فوج نے دیا اسے خاص احترام

دفاعی ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں ایل او سی کے نزدیک ایک کارروائی کے دوران 5 مئی 1972 کو ایک پاکستانی میجر مارا گیا تھا جس کو وہیں دفن کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قریب تین دہائیاں بیت جانے کے بعد قبر اب خستہ حال ہو گئی تھی جس کے پیش نظر فوج نے انسانی بنیادوں پر اس قبر کی مرمت کر کے دوبارہ بحال کر دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 16, 2020 01:27 PM IST
  • Share this:
48 سال پہلے مارے گئے فوجی کو نہیں لے گیا پاکستان، ہندستانی فوج نے دیا اسے خاص احترام
مہلوک پاکستانی میجر کی شناخت 'ستارہ جرات' ایوارڈ یافتہ محمد شبیر خان کے بطور ہوئی ہے۔ تصویر: چنار کور

سری نگر۔ ہندستانی فوج نے سرحدی ضلع کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک سال 1972 میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے ایک پاکستانی میجر کی خستہ حال قبر کی مرمت کی ہے۔


دفاعی ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں ایل او سی کے نزدیک ایک کارروائی کے دوران 5 مئی 1972 کو ایک پاکستانی میجر مارا گیا تھا جس کو وہیں دفن کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قریب تین دہائیاں بیت جانے کے بعد قبر اب خستہ حال ہو گئی تھی جس کے پیش نظر فوج نے انسانی بنیادوں پر اس قبر کی مرمت کر کے دوبارہ بحال کر دیا ہے۔



مہلوک پاکستانی میجر کی شناخت 'ستارہ جرات' ایوارڈ یافتہ محمد شبیر خان کے بطور ہوئی ہے۔ سری نگر میں واقع فوج کی پندرہویں کور نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹوئٹ میں کہا: 'بھارتی فوج نے اپنی روایات و اقدار کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے پانچ مئی 1972 کو نوگام سیکٹر میں ہلاک ہونے والے "ستارہ جرات" ایوارڈ یافتہ پاکستانی میجر کی بوسیدہ قبر کی مرمت کر کے دوبارہ بحال کیا ہے'۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا: 'ایک مہلوک سپاہی، اس سے قطع نظر کہ وہ کس ملک سے تعلق رکھتا ہے، موت کے بعد عزت و وقار کا مستحق ہوتا ہے بھارتی فوج کا یہی عقیدہ ہے'۔ دریں اثنا فوج کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے۔
15 ویں کور نے لکھا ' ایک مہلوک فوجی چاہے وہ جس ملک کا ہو عزت واحترام کا حقدار ہے۔ ہندستانی فوج اس یقین کا احترام کرتی ہے۔ دنیا کے لئے یہ ہندستانی فوج کا پیغام ہے'۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 16, 2020 01:27 PM IST