ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ہند۔ پاک:جنگ بندی معاہدے پرعمل آوری کےباوجود سرحدپرسخت سیکورٹی انتظامات کیوں؟کیاہے پورا معاملہ؟

کشمیر میں اس وقت ملیٹنسی آخری مرحلے میں ہے اور آئے روز ملیٹنٹ مختلف انکاؤنٹرس میں مارے جاتے ہیں جب کہ کشمیر میں بچے کچھے ملیٹنٹوں کے پاس اسلحہ کی کمی ہے اور حفاظتی دستوں نے ان ملیٹنٹوں پر اپنا دباو بنا کر رکھا ہے جس وجہ سے وہ کوئی بڑی تشدد کی واردات انجام دینے میں ناکام ہوئے ہیں اور اس وجہ سے سرحد کے اس پار بیٹھے ان کےآقاوں کی نیدیں حرام ہوگئیں ہیں

  • Share this:
ہند۔ پاک:جنگ بندی معاہدے پرعمل آوری کےباوجود سرحدپرسخت سیکورٹی انتظامات کیوں؟کیاہے پورا معاملہ؟
جنگ بندی معائدہ پر عمل آوری کے باوجود ، جموں وکشمیر میں سرحدوں پر سخت چوکسی

مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف ایکچول کنٹرول پر پچھلے نو روز سے بلکل خاموشی ہے اور دونوں ممالک سیز فائر معاہدے پر مکمل طور پر عمل کر رہے ہیں تاہم خفیہ اداروں نے دہشت گردوں کی جانب سے دراندازی کی سازش کرنے کا اشارہ دیاہے جس کو لیکر سرحدوں پر فوج اور بی ایس ایف نے اپنی چوکسی بڑھادی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ سرحدوں پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی گولہ باری سے آر پار نہ صرف ایک دوسرے کے فوجی مارے جاتے تھے بلکہ گولہ باری کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب پچھلے کہی سالوں سے درجنوں عام شہری مارے گئے اب جب کہ حال ہی میں دونوں ممالک نے پھر ایک بار سیز فائر معاہدے پر عمل کرنے کا فیصلہ لیا اس فیصلے کے بعد سرحدوں پر مکمل خاموشی ہے اور پچھلے نو دنوں سے کسی بھی جگہ پر سیز فائر معاہدے کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور یوں اس فیصلے سے لوگوں کو ایک بڑی راحت ملی ہے ادھر خفیہ اداروں کی جانب سے یہ رپورٹ ملنے کہ لانچنگ پیڈوں پر بڑی تعداد میں دہشت گرد دراندازی کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔سرحدوں پر چوکسی بڑھا دی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق لشکر جیش اور حزب المجاہدین سے وابستہ دہشت گردوں کے گروپ اس پار آنے کےکوشش میں ہیں۔


خفیہ اداروں کی جانب سے یہ رپورٹ ملنے کہ لانچنگ پیڈوں پر بڑی تعداد میں دہشت گرد دراندازی  کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔سرحدوں پر چوکسی بڑھا دی گئی ہے ۔
خفیہ اداروں کی جانب سے یہ رپورٹ ملنے کہ لانچنگ پیڈوں پر بڑی تعداد میں دہشت گرد دراندازی کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔سرحدوں پر چوکسی بڑھا دی گئی ہے ۔


خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے ملی رپورٹ کے مطابق پاکستان پر زیادہ دیر تک بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ کبھی بھی اپنی ناپاک حرکتیں انجام دینے کے لئے دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقے میں ڈھکیل سکتا ہے رپورٹ کے مطابق پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں حالیہ کچھ ایام میں دہشت گردوں کے آقاوں نے میٹنگیں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ دراندازی کے حوالے سے ایک پلان مرتب کیا جاسکے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کے مختلف سرحدی مقامات پر بی ایس ایف نے کہی زیر زمین سرنگوں کا پتہ لگایا ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھلے ہی پاکستان نے سیز فائر معاہدے پر عمل آوری کا فیصلہ کیا تھا تاہم حقیقت یہی ہے کہ پاکستان آج بھی دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے ۔


یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ کشمیر میں اس وقت ملیٹنسی آخری مرحلے میں ہے اور آئے روز ملیٹنٹ مختلف انکاؤنٹرس میں مارے جاتے ہیں جب کہ کشمیر میں بچے کچھے ملیٹنٹوں کے پاس اسلحہ کی کمی ہے اور حفاظتی دستوں نے ان ملیٹنٹوں پر اپنا دباو بنا کر رکھا ہے جس وجہ سے وہ کوئی بڑی تشدد کی واردات انجام دینے میں ناکام ہوئے ہیں اور اس وجہ سے سرحد کے اس پار بیٹھے ان کےآقاوں کی نیدیں حرام ہوگئیں ہیں اور وہ اسی وجہ سے سرحدوں پر چلتی خاموشی کے دوران دراندازی کراکے کشمیر میں پھر ایک بار یہاں کی ادھ مری ملیٹنسی میں نئی جان ڈالنے چاہتے ہیں تاکہ کشمیر میں پھر ایک بار پر امن ماحول کو خراب کیا جاسکے جب کہ خفیہ اداروں کو ان سازشوں کا پتہ چلنے کے بعد سرحدوں پر چوکسی مزید بڑھا دی گئی ہے ۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 13, 2021 10:06 AM IST