உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خفیہ رپورٹ میں انکشاف-کشمیری صحافیوں کو مل رہی دھمکیوں کا ترکیہ سے لنک، ہٹ لسٹ تیار!

    خفیہ رپورٹ میں انکشاف-کشمیری صحافیوں کو مل رہی دھمکیوں کا ترکیہ سے لنک، ہٹ لسٹ تیار!(علامتی تصویر)

    خفیہ رپورٹ میں انکشاف-کشمیری صحافیوں کو مل رہی دھمکیوں کا ترکیہ سے لنک، ہٹ لسٹ تیار!(علامتی تصویر)

    بنیادی طور پر سرینگر کا رہائشی مختار بابا ترکیہ کے انقرہ بھاگنے سے پہلے نوگام میں شفٹ ہوگیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس نے صحافیوں کے درمیان مخبروں کا ایک نیٹ ورک بنایا ہے، جن کے ان پٹ کی بنیاد پر اس نے ہٹ لسٹ تیار کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Srinagar, India
    • Share this:
      کشمیری صحافیوں کو مل رہی دھمکیوں کا ماسٹر مائنڈ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا دہشت گرد مختار بابا ہے۔ ترکیہ سے اپنے منصوبوں کو انجام دے رہے بابا نے مرکز کے زیر انتظام ریاست کے صحافیوں پر سیکورٹی فورسز کا مخبر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ایک ہٹ لسٹ تیار کی ہے۔ اس کا انکشاف ایک خفیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ بابا کے ساتھ ہی اس کے رابطے میں رہنے والے 6 دیگر لوگوں پر شک ہے۔ لشکر کے معاون گروپ ’دی ریزیزٹنس فرنٹ‘ (ٹی آر ایف) کی جانب سے دھمکی ملنے کے بعد کئی صحافی مقامی پبلی کیشنز سے حال ہی میں استعفیٰ دے چکے ہیں۔

      پولیس کے مطابق، ہٹ لسٹ کے سامنے آنے کے بعد انسداد دہش گردی قانون غیر قانونی سرگرمیاں( انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسیوں کے ان پٹ کی بنیاد پر ایک خفیہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ بابا ترکیہ سے اکثر پاکستان جاتا رہتا ہے۔ وہ ہی لشکر طیبہ کی برانچ دی ریزیزٹنٹس فرنٹ کے بینر تلے دہشت گردی کے لیے وادی میں نوجوانوں کو تیار کرنے، فرضی کہانی بنانے اور آپریٹ کرنے کے کارناموں کا سرغنہ ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ایل اےسی پرفوجیوں کی تیزی سےنقل وحرکت، ہندوستان کی جانب سےسرحدی رابطوں میں اضافہ




      یہ بھی پڑھیں:
      شیر کشمیر یونیورسٹی میں کسان میلا آج سے، ایل جی سنہا کریں گے افتتاح، پانچ دن رہے گا جاری

      حزب اللہ سے جڑا رہا، پاکستانی اور دہشت گرد بنانے کو مجبور کرنے کے لئے مشہور
      بنیادی طور پر سرینگر کا رہائشی مختار بابا ترکیہ کے انقرہ بھاگنے سے پہلے نوگام میں شفٹ ہوگیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس نے صحافیوں کے درمیان مخبروں کا ایک نیٹ ورک بنایا ہے، جن کے ان پٹ کی بنیاد پر اس نے ہٹ لسٹ تیار کی ہے۔ وہ 1990 کی دہائی میں دہشت گرد گروپ حزب اللہ سے جڑا اور حزب اللہ سے جڑی ہوئی 40 اے کے سیریز رائفلوں کو دیگر دہشت گرد گروپوں کو بیچنے میں شامل پائے جانے کے بعد اسے گروپ سے باہر کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ مسرت عالم کی قیادت والی مسلم لیگ سے جڑا رہا۔ وہ وادی میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کو رپورٹنگ اور اوپنین میں پاکستانی اور دہشت گردی لائن لینے کو مجبور کرنے کے لیے مشہور ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: