உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر: اسٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی نے کشمیر کے متعدد علاقوں میں مارا چھاپہ، جانئے کیوں

    جموں و  کشمیر: اسٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی نے کشمیر کے متعدد علاقوں میں مارا چھاپہ، جانئے کیوں

    جموں و کشمیر: اسٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی نے کشمیر کے متعدد علاقوں میں مارا چھاپہ، جانئے کیوں

    Jammu and Kashmir: ذرائع کے مطابق یہ چھاپہ ماری جموں و کشمیر میں ٹیرر فنڈنگ اور بدامنی کو ہوا دینے کے سلسلے میں جاری تحقیقات کے تناظر سے عمل میں لائی گئی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar | Anantnag
    • Share this:
    جموں و کشمیر: اسٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے منگل کے روز کشمیر کے متعدد علاقوں میں چھاپہ ماری کی کارروائی انجام دی۔ ذرائع کے مطابق یہ چھاپہ ماری جموں و کشمیر میں ٹیرر فنڈنگ اور بدامنی کو ہوا دینے کے سلسلے میں جاری تحقیقات کے تناظر سے عمل میں لائی گئی ہے ۔ کشمیر نے ملکیت کے متعدد مقامات پر تلاشی لی۔ ایس آئی اے نے وادی بھر میں مختلف اضلاع میں کارروائی انجام دی اور ممنوعہ تنظیم جماعت اسلامی سے منسلک کئی تنصیبات اور فلاح عام ٹرسٹس پر چھاپہ ماری کی ۔  جموں و کشمیر پولیس کی ایس آئی اے نے یہ کارروائی سری نگر کے تحت نامزد خصوصی جج کی عدالت کے ذریعہ عمل میں لائی۔ تحقیقات کے سلسلے میں جماعت اسلامی ایف اے ٹی کے زیر استعمال تنصیبات جو کہ سوپور، سرینگر، اننت ناگ اور کولگام میں واقع ہیں، کی تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ’جموں و کشمیر میں حریت ختم‘، پاکستان میں لوگوں کو مشتعل کرنے کے نئے عزائم کا انکشاف


    پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی  پر پابندی سے پہلے کی نیم عدالتی کارروائی کے دوران شواہد سامنے آئے تھے، جو کہ علاحدگی پسند ایجنڈے کو پھیلانے کا ایک بڑا طریقہ تھا۔ پولیس کے مطابق یہ جانچ کا معاملہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کتنے جانے پہچانے ارکان ان کی انتظامیہ اور تدریسی فیکلٹی میں نمائندگی کرتے ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر: عمران ہاشمی کے فلم کرو پر پتھر پھینکنے والے شرپسند کو پولیس نے کیا گرفتار


    پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی بھی چھان بین کی جائے گی کہ ٹرسٹ کی انتظامیہ کے کتنے ارکان ہیں جن کو جماعت اسلامی کے سابق عہدیداروں کے طور پر جانا جاتا ہے۔  پولیس نے مزید کہا ہے کہ مفاد عامہ کا پہلو تفتیش اس حقیقت میں مضمر ہے کہ 30 سالہ علاحدگی پسند کے کئی مراحل میں کس طرح کی کارروائیاں انجام دی جا چکی ہیں۔

    پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ تلاشی کے دوران لیپ ٹاپ، کیش بک، چیک سمیت متعدد مجرمانہ مواد برآمد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، اراضی کے کاغذات وغیرہ کو بھی اس دوران ضبط کر لیا گیا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: