உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کیا پاکستان میں فوجی راج قائم ہونے کی جانب ہے ایک قدم؟

    عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کیا پاکستان میں فوجی راج قائم ہونے کی جانب ہے ایک قدم؟

    عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کیا پاکستان میں فوجی راج قائم ہونے کی جانب ہے ایک قدم؟

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کیا پاکستان میں فوجی راج قائم ہونے کی جانب ایک قدم ہے؟ پاکستان کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا جموں وکشمیر کی سلامتی صورتحال پر کیا اثر پڑے گا۔ آئیے خارجی امور کے ایکسپرٹ کی رائے جانتے ہیں۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: پاکستان کی موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال کے درمیان پیر کو وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔ یہ تحریک اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ 31 مارچ کو ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان کو استعفیٰ دینا پڑ سکتا ہے کیونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ وہ تحریک انصاف پارٹی کے کئی ممبران کی حمایت کھو چکے ہیں۔

    خارجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس طرح کی پیش رفت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی عوامی حکومت جو پاکستانی فوج کے مفادات کے مطابق کام انجام  نہیں دیتی۔ اسے یا تو تبدیل کر دیا جاتا ہے یا فوج براہ راست مارشل لاء لگا کر اقتدار سنبھالیتی ہے۔ خارجی امور کے ماہر کیپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خراب مالی حالات کے پیش نظر پاکستان کے آرمی چیف مارشل لاء نہیں لگا سکتے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کپٹن انل گور نے کہا،" پاکستان میں ہمیشہ فوج کا ہی دبدبہ رہا ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی سیاسی رہنما فوج کی پشت پناہی کے بغیر اس ملک کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اس ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی پاکستانی فوج کے سربراہ کو لگتا ہے کہ وہاں کی سرکار فوج کی مرضی کے مطابق کام نہیں کر رہی ہے تو وہ بغاوت کرکے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں یا پھر اپنی مرضی کے مطابق اس سیاسی شخص کو وزیر اعظم بنانے کا عمل انجام دیتے ہیں جو ان کے کہنے کے مطابق کام کرے"۔

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی کشتی بھنور میں ہے۔ ان کے خلاف اپوزیشن جماعتیں متحد ہوگئی ہیں اور انہیں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی کشتی بھنور میں ہے۔ ان کے خلاف اپوزیشن جماعتیں متحد ہوگئی ہیں اور انہیں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


    انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی پاکستان کی وہی حالت ہے، تاہم انہیں لگتا ہے کہ عمران خان کی سرکار گرائے جانے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوا پاکستان میں مارشل لاء قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا،" قمر جاوید باجوا اس بار پاکستان میں مارشل لاء لگانا پسند نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان کی اقتصادی حالت انتہائی خراب ہے۔ اس لئے کوئی فوجی جنرل ایسے حالات میں پاکستان پرحکومت نہیں کرسکتا۔ کیپٹن انل گور نے کہا کہ پاکستان میں فوجی راج قائم ہونے سے IMF کی جانب سے اس ملک کو ملنے والی امداد بند ہو جائے گی اور دنیا کے کئی ممالک بشمول سعودی عرب ان سے ناراض ہوجائیں گے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی مالی حالت مزید ابتر ہو جائے گی۔  انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال کے پیش نظر فوج عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد ان کی جگہ حزب مخالف کے کسی پسندیدہ لیڈر کو ملک کی باگ ڈور سونپ دیں گے۔ چونکہ جموں وکشمیر کے عوام گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی پشت پناہی سے جاری ملیٹینسی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، لہٰذا پاکستان میں ہونے والی ان پیش رفت کا اثر جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پر پڑ سکتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا ایک اور رکن پارلیمنٹ نے چھوڑا ساتھ

    کیپٹن انیل گور کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں ملیٹینسی کی پشت پناہی کرنا پاکستان کی پالیسی کا حصہ رہی ہے۔  لہٰذا کوئی بھی حکومت جو پاکستان میں اقتدار سنبھالتی ہے، وہ مسئلہ کشمیر کو اٹھانا بند کرنے اور ملیٹینسی کی حمایت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ اس پارٹی کے لئے سیاسی طور پر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا،" کشمیر مسئلے کا راگ الاپنا اور جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینا پاکستان کی سرکاری پالیسی کا حصہ رہا ہے، لہٰذا پاکستان کی کوئی بھی حکومت اس مسئلے سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ پاکستان کی کوئی بھی حکومت یا وہاں کا کوئی بھی لیڈر اگر کشمیر مسئلے کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کرے گا اسے وہاں کی سیاست میں کافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، لہٰذا پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت جموں وکشمیر میں ملیٹینسی کو ہوا دینے سے باز نہیں آئے گی"۔

    کپٹن انل گور نے کہا کہ پاکستان کی سرکار وہاں کے غریب اور مجبور نوجوانوں کو جھانسہ دے کر جموں وکشمیر میں داخل کرواتے ہیں تاکہ وہ اقتدار پر قابض رہ سکیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں سرکار تبدیل ہوجانے کے باوجود پاکستان کی جموں وکشمیر میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کے طریقے کار میں تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم یہ کہنا ہرگز مناسب نہیں ہے کہ پاکستان میں حکومت تبدیل ہوجانے سے جموں وکشمیر میں جاری دہشت گردی کو پاکستانی حکومت کی حمایت ملنا بند ہو جائے گی۔‎
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: