உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: آئی ایس آئی کی بڑی سازش، سیکورٹی اہلکاروں سے انکاونٹر میں عام کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا حکم

    آئی ایس آئی کی سازش، سیکورٹی اہلکاروں سے انکاونٹر میں عام کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا حکم

    آئی ایس آئی کی سازش، سیکورٹی اہلکاروں سے انکاونٹر میں عام کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا حکم

    ISI Plan in Jammu-Kashmir: پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے وادی میں موجود اپنے اوور گراونڈ ورکرس کو یہ ہدایت دی ہے کہ اگر کسی جگہ پر سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہو رہا ہے تو وہاں موجود عام شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ کم از کم دس لوگوں کو مارنے کے لئے کہا گیا، جس سے آپریشن کے بعد وہاں کے لوگوں کو سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف بھڑکایا جاسکے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کورونا دور میں جب پوری دنیا خطرناک وائرس سے لڑنے میں مصروف تھی تو پاکستان (Pakistan) کے دماغ میں الگ ہی حکمت عملی چل رہی تھی۔ پاکستان کو معلوم تھا کہ ہندوستانی فوج اپنے آپریشن آل آوٹ (Operation All Out) کو مسلسل جاری رکھنے والی ہے۔ ایسے میں اس نے ایک خطرناک سازش کی۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے وادی میں موجود اپنے اوور گراونڈ کو یہ ہدایت دی کہ اگر کسی جگہ پر سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہو رہا ہے تو وہاں موجود عام کشمیریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ کم از کم 10 لوگوں کو مارنے کے لئے کہا گیا، جس سے آپریشن کے بعد وہاں کے لوگوں کو سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف مشتعل کیا جاسکے۔

      پاکستان کی جانب سے ایسا کرکے بند ہوچکے پتھر بازی کے دور کو دوبارہ شروع کرنے کی سازش ہے۔ کشمیری عوام اور سیکورٹی اہلکاروں کو آمنے سامنے لانے کی سازش کی جارہی ہے، لیکن ایسا ہونے نہیں دیا۔ فوج کے آپریشن اور لوگوں کی حمایت نہ ملنے کے سبب دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اگر اعدادوشمار کی بات کریں تو سال 2018 کے مقابلے اس سال دہشت گردانہ حادثات کو دہشت گرد کم انجام دے سکے۔

      دہشت گردانہ واردات میں کمی

      سال 2018 میں دہشت گردوں نے کل 318 دہشت گردانہ واردات کو انجام دیا گیا تھا، لیکن سال 2021 میں 121 حادثے رپورٹ ہوئیں۔ وہیں آپریشن کی جگہ پر او جی ڈبلیو کی مدد سے لوگوں کی بھیڑ جمع کرنا اور پھر پتھر بازی کروا کر آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں میں بھی زبردست کمی آئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق، سال 2019 میں پتھر بازی کے 202 حادثات سامنے آئے تھے، جبکہ اس سال صرف 39 رپورٹ ہوئی ہیں۔

      سیکورٹی اہلکاروں نے رکھا پورا خیال

      وہیں آپریشن کے دوران سیکورٹی اہلکاروں نے پورا خیال رکھا، جس سے عام لوگوں کو نقصان نہ ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انکاونٹر میں عام شہریوں کو بہت کم نقصان ہوتا ہے۔ اگر اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو سال 2018 میں فوج کے آپریشن کے دوران کراس فائرنگ میں 24 مقامی شہریوں کی موت ہوئی اور 49 زخمی ہوئے تھے جبکہ اس سال 2021 میں انکاونٹر کے دوران کراس فائر میں محض 2 عام لوگوں کی جان گئی اور دو کو معمولی چوٹ آئی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      امریکہ نہیں دے رہا ہے پاکستان کو اہمیت، عمران خان کے وزرا دوستی کے لئے ہیں پریشان


      ابتدا میں ہلاکتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

      پہلے ہلاکتوں کی تعداد اس لئے زیادہ درج ہوئی کیونکہ دہشت گرد آپریشن کی جگہ سے بھاگ کر بچنے کے لئے گھر میں چھپ جاتے تھے۔ دوسرے، انکاونٹر سائٹ پر لوگوں کی بھیڑ زیادہ ہوتی تھی، لیکن گزشتہ دو سال میں اس میں زبردست کمی آئی۔ اب نہ تو عام لوگوں کے گھروں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملتی ہے۔ ساتھ ہی دہشت گرد اور ان کے او جی ڈبلیو کسی بھی طرح سے لوگوں کو انکاونٹر سائٹ پر اکٹھا نہیں کر پا رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: