உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر پر حملے کی سازش میں مصروف آئی ایس آئی، فوج نہیں، اس بار ان پر ہے اہم نشانہ

    کشمیر پر حملے کی سازش میں مصروف آئی ایس آئی، فوج نہیں، اس بار ان پر ہے اہم نشانہ

    کشمیر پر حملے کی سازش میں مصروف آئی ایس آئی، فوج نہیں، اس بار ان پر ہے اہم نشانہ

    خفیہ رپورٹ (Intelligence Report) میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اب آئی ایس آئی کشمیر کے پاور گرڈ، اہم برج، مذہبی مقامات، آرڈیننس فیکٹری اور ڈپو سمیت کئی دیگر اہم اداروں کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنانے کی فراق میں ہیں۔ ریلوے برج اور اہم سڑکوں پر بنے برج کو آئی ای ڈی سے نشانہ بناکر وہ کنکٹیویٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آرٹیکل 370 (Article 370) کے ہٹنے کے بعد سے ہی جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) میں سالوں سے قیاس آرائی کے بعد سے ہی جموں وکشمیر میں سالوں سے رکے ہوئے کام بڑی تیزی سے چل رہے ہیں۔ اس کا سیدھا فائدہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو ہو رہا ہے، لیکن یہ بات پاکستان اور ان کے ذریعہ پرورش پانے والے دہشت گردوں کو سب سے زیادہ چبھ رہی ہے۔ ایسے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اب دہشت گردانہ واردات کو انجام دینے کی منصوبہ بندی کی۔ اب اس کی نظر کشمیر کے صنعتی اداروں کو نقصان پہنچانے کی ہے۔

      خفیہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اب آئی ایس آئی کشمیر کے پاور گرڈ، اہم برج، مذہبی مقام، آرڈیننس فیکٹری اور ڈپو سمیت کئی دیگر اہم اداروں کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنانے کی فراق میں ہے۔ ریلوے برج اور اہم شاہراہوں پر بنے برج کو آئی ای ڈی سے نشانہ بناکر وہ کنیکٹیوٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکسائل کمپنی، سرکاری گودام کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو اس کام کے لئے باقاعدہ ہندوستان پاکستان بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی سے ڈرون کے ذریعہ دھماکوں کو ہندوستان میں بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ زمین کے راستے ہتھیار اور گولہ بارود بڑی تعداد میں بھیج پانا پاکستان کے لئے مشکل ہو رہا ہے، لہٰذا وہ ڈرون کا بھی استعمال کر رہا ہے۔

      سافٹ ویئر کا استعمال کرکے ہیکنگ اور سسٹم کریش کرنے کی کوشش

      پاکستان کی خفیہ ایجنسی تو اب سافٹ ویئر کا استعمال ہندوستانی سسٹم کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آئی ایس آئی کشمیر میں ایئر پورٹ آپریشن کو رخنہ اندازی کرنے کے لئے نئے طرح کے سافٹ ویئر دہشت گردوں تک پہنچانے کی فراق میں ہے۔ اطلاع کے مطابق، اس سافٹ ویئر کو آسانی سے کسی بھی پین ڈرائیو میں کہیں بھی لے جایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس سافٹ ویئر کے بارے میں بہت زیادہ جانکاری نہیں ہے، لیکن یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ ایسا سافٹ ویئر ہوسکتا ہے، جس سے کمپیوٹر ہیکنگ یا پھر سسٹم کریش کیا جاسکے۔

      کیا پاکستان کو چین مہیا کرا رہا ہے تکنیگ؟

      اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایسی تکنیک خود کی تو ہو نہیں سکتی، تو کیا اب چین اسے اس طرح کے سافٹ ویئر دے رہا ہے یا پھر وہ ترکی سے ایسے سافٹ ویئر لے رہا ہے، جس نے حال ہی میں پاکستان کے رشتوں میں نئی عبارت لکھنی شروع کی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: