உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر کے اسکولوں میں بھجن پر پابندی کا مسلم تنظیموں نے کیامطالبہ، آخرکیاہےمعاملہ؟

    تصویر: کشمیر کارنر

    تصویر: کشمیر کارنر

    Ban on bhajans across schools in Jammu and Kashmir: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ایم ایم یو نے میٹنگ میں ایک قرارداد منظور کی اور وادی کشمیر میں مسلم تشخص کو کمزور کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammalamadugu | Hyderabad | Mumbai | Lucknow | Karnawad
    • Share this:
      کشمیر میں تقریباً 30 اسلامی، سماجی و تعلیمی تنظیموں کا ایک اجتماع متحدہ مجلس علما (Muttahida Majlis-e-Ulema) کے تحت منعقد کیا گیا۔ متحدہ مجلس علما نے حکومت اور محکمہ تعلیم پر زور دیا کہ وہ اسکولوں میں بھجن اور سوریہ نمسکار جیسے رواج کو روکیں کیونکہ اس سے لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں۔

      اس اجتماع میں کہا گیا ہے کہ ایم ایم یو نے آج جامع مسجد، سری نگر میں ایک میٹنگ کی، جس میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کو ہندو مذہبی گیت گانے اور سوریہ نمسکار کے تناظر میں ایک میٹنگ کی گئی۔ جس سے مسلم تشخص مجروح ہوتا ہے۔ یہ احکام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور ان میں اضطراب پیدا کرتے ہیں۔

      جامع مسجد کے ممتاز عالم اور حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق (Mirwaiz Umar Farooq) کی سربراہی میں ایم ایم یو نے تعلیمی اداروں میں یوگا اور سوریہ نمسکار کو مسلط کرنے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ مسلمان طلبہ کو بھجن سنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سوریہ نمسکار کرنے کے لئے دباو ڈالا جارہا ہے۔

      پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ایم ایم یو نے میٹنگ میں ایک قرارداد منظور کی اور وادی کشمیر میں مسلم تشخص کو کمزور کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایم ایم یو کو اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ان سرگرمیوں پر سخت افسوس ہے جن کا مقصد کشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

      یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب جنوبی کشمیر میں سری نگر سے تقریباً 70 کلومیٹر دور کولگام میں اسکولی بچوں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ جو ایک بھجن گا رہے ہیں۔ اس میں مبینہ طور پر اساتذہ کی طرف سے زور دیا گیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستان نے لگائے جھوٹے الزام، دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ ممکن نہیں، UNمیں ہندستان کا کرارا جواب

      اس میں کہا گیا ہے کہ اس میٹنگ میں والدین پر بھی زور دیا گیا کہ اگر ان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں غیر اسلامی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ اپنے بچوں کو ان سکولوں سے نکال کر پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرائیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلم اساتذہ ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے گریز کریں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      جموں و کشمیر میں پولیس کی جانب سے ڈرون نگرانی، شہریوں نے کیا رازداری کے خدشات کا اظہار



      میٹنگ میں حکومت، محکمہ تعلیم اور متعلقہ ایجنسیوں کو مطلع کیا گیا کہ کشمیر میں مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقائد کے برعکس ہیں۔ اس طرح ایم ایم یو حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے احکامات کو فوری طور پر واپس لے اور اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ان طرز عمل کو روکے، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچتا ہے اور ان کے غم میں اضافہ ہوتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: