ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر:'ملک مخالف‘سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین پرنظررکھنے کےلیے ٹاسک فورس کاقیام

محکمہ سیکیورٹی ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’’ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن میں جموں و کشمیر پولیس یا قومی تفتیشی ایجنسی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سرکاری اہلکار علیحدگی پسندی اور ملک دشمن کاموں میں ملوث ہیں‘‘۔

  • Share this:
جموں و کشمیر:'ملک مخالف‘سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین پرنظررکھنے کےلیے ٹاسک فورس کاقیام
جموں وکشمیر : ایل جی منوج سنہا نے مالی سال کے پہلے دن 50 فیصد کیپٹل آوٹ لے کو دی منظوری

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا (Lieutenant Governor Manoj Sinha ) کی سربراہی میں جموں و کشمیر حکومت نے مبینہ طور پر ’ملک مخالف‘ سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کی تفتیش کے لئے خصوصی ٹاسک فورس (Special Task Force ) کے قیام کا اعلان کیاہے۔ایسے ملازمین کی شناخت کے لئے ایس ٹی ایف دہشت گردی مانیٹرنگ گروپ (Terror Monitoring Group) کے اراکین کے ساتھ مشغول ہوگی۔ ایس ٹی ایف دوسرے اداروں اور محکموں سے بھی ایسے ملازمین کی تحقیقیات کرنے میں مدد لے گا۔ٹاسک فورس وقتا فوقتا مقدمات کی جانچ کرے گی اور فوجداری تحقیقات (criminal investigation) کے ذریعہ اس کی مدد کی جائے گی۔


آئین کے دفعہ 311 (2) (c):


یہ آئین کے دفعہ 311 (2) (سی) کی مختلف تشریحات پر زور دے کر کام کرے گا۔


اس دفعہ کے مطابق ’’کسی بھی فرد کو برخاست یا درجہ میں کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سوائے انکوائری کے بعد جس میں اسے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات سے آگاہ کیا گیا ہو اور ان الزامات کے سلسلے میں سنوائی کا مناسب موقع فراہم کیا جائے‘‘۔ اگر انکوائری میں انھیں قصوروار ثابت کیا جاتا ہے تو انھیں برخاست کردیا جائے گا۔

’’علیحدگی پسندوں کا ایجنڈا‘‘

محکمہ سیکیورٹی ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’’ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن میں جموں و کشمیر پولیس یا قومی تفتیشی ایجنسی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سرکاری اہلکار علیحدگی پسندی اور ملک دشمن کاموں میں ملوث ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو حکومت کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن علیحدگی پسندوں کا ایجنڈا رکھتے ہیں‘‘۔

عہدیدار نے بتایا کہ ’’جنوبی کشمیر میں ایسے معاملات پیش آئے ہیں جن میں عہدیداروں نے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی (Jamaat-e-Islami) کے ساتھ کام کیا تھا‘‘۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مرکزی زیر انتظام علاقہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ’’کئی سالوں سے برسر خدمت اہلکار اخلاقی اور مالی مدد کے ذریعے پاکستان نواز عناصر کی حمایت کررہے ہیں اور اس طرح کا ماحول بھی بنا رہے ہیں۔ ان عناصر کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی اور یہ پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے کہ اب یہ قابل قبول نہیں ہے‘‘۔

ایس ٹی ایف کے اراکین:

جبکہ کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (Crime Investigation Department) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نو تشکیل شدہ ایس ٹی ایف کے چیئرمین ہوں گے۔ وہیں آر آر سوائن (RR Swain) پہلے چیف ہوں گے۔ سوین جموں وکشمیر پولیس کے اگلے ڈائریکٹر جنرل بننے کے لئے بھی سب سے آگے ہیں۔ فی الحال وہ سی آئی ڈی کے چیف کی حیثیت سے مصروف ہے۔

فورس کے دیگر اارکین میں محکمہ داخلہ (Home Department)، محکمہ قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور (Department of Law, Justice and Parliamentary Affairs) کے سکریٹری اور متعلقہ محکمہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اس میں شامل اراکین ایڈیشنل سیکرٹری کے درجے سے نیچے نہیں ہوں گے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 22, 2021 02:40 PM IST