உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UAPA in 2021: سال 2021 میں جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ یو اے پی اے کے تحت کیس درج

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2021 میں جہیز کی وجہ سے ہلاکتوں کے 16 واقعات پیش آئے

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2021 میں جہیز کی وجہ سے ہلاکتوں کے 16 واقعات پیش آئے

    UAPA in 2021: خواتین کے خلاف سب سے نمایاں جرم ’’عورتوں پر ان کی شرم گاہ کو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ‘‘ کرنا ہے۔ جموں و کشمیر میں اس طرح کے 1,851 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جرائم کی شرح فی لاکھ آبادی میں اس طرح کے حملوں کی شرح 28.9 ریکارڈ کی گئی

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Mumbai | Lucknow
    • Share this:
      UAPA in 2021: نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2021 میں ملک میں خصوصی اور مقامی قوانین کے تحت جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں یو اے پی اے کے تحت کل 814 کیسوں میں سے 2021 میں جموں و کشمیر میں 289 کیس درج کیے گئے، اس کے بعد منی پور میں 157، آسام میں 95، جھارکھنڈ میں 86 اور اتر پردیش میں 83 کیس درج کیے گئے ہیں۔

      اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فسادات کے کل مقدمات میں سے 136 پولیس اہلکاروں یا سرکاری ملازمین پر حملوں، 107 دیگر کارروائیوں کے لیے اور 346 زمین اور جائیداد کے تنازعات میں درج کیے گئے تھے۔ جموں و کشمیر میں ریاست کے خلاف جرائم کے متعلقہ کارروائیوں کے 300 مقدمات بھی دیکھے گئے۔ عوامی سکون کے خلاف جرائم کے 781 مقدمات بھی درج ہوئے جن میں 867 افراد شامل تھے۔

      نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹھ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فسادات کے سب سے زیادہ کیس بھی جموں و کشمیر میں درج کیے گئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں آئی پی سی کی دفعہ 147 اور 151 کے تحت فسادات کے 751 مقدمات درج کیے گئے جن میں 838 افراد شامل تھے۔ حالانکہ ملک میں فسادات کے سب سے زیادہ واقعات ریاست مہاراشٹر میں ہوئے ہیں۔ جس کی تعداد 8,709 ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں 9,635 افراد شامل تھے۔

      خواتین کے خلاف جرائم میں 15 فیصد اضافہ:

      این سی آر بی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 2021 میں خواتین کے خلاف جرائم میں 15 فیصد اور بچوں کے خلاف جرائم میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 2021 میں آئی پی سی یا خصوصی اور مقامی قوانین کے تحت 31,675 مجرمانہ مقدمات درج ہوئے جبکہ 2020 میں یہ تعداد 28,911 تھی۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      بلیک آؤٹ فٹ میں Akanksha Puri کی اب تک کی سب سے بولڈ تصویریں، میکا سنگھ نے یوں دیا ردعمل

      خواتین کے خلاف سب سے نمایاں جرم ’’عورتوں پر ان کی شرم گاہ کو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ‘‘ کرنا ہے۔ جموں و کشمیر میں اس طرح کے 1,851 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جرائم کی شرح فی لاکھ آبادی میں اس طرح کے حملوں کی شرح 28.9 ریکارڈ کی گئی، جو آٹھ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں سب سے زیادہ ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Trade with Pakistan: پاکستان کے ساتھ تجارت ممکن نہیں! ’پہلےسرحدپاردہشت گردی کوکیاجائےختم‘

      2021 میں مجموعی طور پر فوجداری مقدمات میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ 2020 میں 13.7 فیصد اضافے سے کم ہے۔ 2018 کے مقابلے سال 2019 میں مقدمات میں 6 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 3,937 مقدمات درج ہوئے جبکہ 2020 میں 3,405 اور 2019 میں 3,069 مقدمات درج ہوئے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: