உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جامع مسجد سری نگر مسلسل نماز کے لئے بند، اوقاف کمیٹی نے کہا مذہبی حقوق کی خلاف ورزی

    تاریخی جامع مسجد موہٹہ سرینگر آج مسلسل 21 جمعہ کو بند رکھی گئی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے مسجد کے مسلسل بند رکھے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس اہم مذہبی اور روحانی مرکز سے کشمیر کے عوام کو دور نہیں رکھا جارہا ہے۔

    تاریخی جامع مسجد موہٹہ سرینگر آج مسلسل 21 جمعہ کو بند رکھی گئی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے مسجد کے مسلسل بند رکھے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس اہم مذہبی اور روحانی مرکز سے کشمیر کے عوام کو دور نہیں رکھا جارہا ہے۔

    تاریخی جامع مسجد موہٹہ سرینگر آج مسلسل 21 جمعہ کو بند رکھی گئی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے مسجد کے مسلسل بند رکھے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس اہم مذہبی اور روحانی مرکز سے کشمیر کے عوام کو دور نہیں رکھا جارہا ہے۔

    • Share this:
    سری نگر: تاریخی جامع مسجد موہٹہ سری نگر آج مسلسل 21 جمعہ کو بند رکھی گئی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے مسجد کے مسلسل بند رکھے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اور اس اہم مذہبی اور روحانی مرکز سے کشمیر کے عوام کو دور نہیں رکھا جارہا ہے۔ انجمن کے پریس ریلیز کے مطابق انتظامیہ کے مطابق، گزشتہ اس سال جامع مسجد کو مختلف بہانوں سے 45 جمعہ تک بند رکھا گیا اور پچھلے پانچ سال یعنی 2016 سے 2020 میں 112 بار جمعہ کے موقع پر یہاں انتظامیہ نے نماز کی اجازت نہیں دی۔ انجمن اوقاف اور دیگر علماء مسلسل جامع مسجد کو کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے آئے بن ہیں لیکن بے نتیجہ۔

    میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق بھی مسلسل نظر بند ہیں۔ انجمن اوقاف نے انتظامیہ سےکہا ہے کہ مذہبی آزادی کے خلاف ان اقدام کو روکا جائے اور جامع مسجد کے ساتھ ساتھ میر واعظ مولوی محمد عمرفاروق کو بھی رہا کیا جائے۔ دوسری جانب، سری نگر کے مئیر جنید عازم متو کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں ایک خط لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو لکھا ہے جس میں تمام مساجد کو عوام کے لئے کھولے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    تاریخی جامع مسجد موہٹہ سری نگر آج مسلسل 21 جمعہ کو بند رکھی گئی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے مسجد کے مسلسل بند رکھے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔
    تاریخی جامع مسجد موہٹہ سری نگر آج مسلسل 21 جمعہ کو بند رکھی گئی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد نے مسجد کے مسلسل بند رکھے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔


    انہوں نے کہا کہ اس خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ مساجد کو بند رکھنا اچھی بات نہیں، لیکن وہ ساتھ کہتے ہیں کہ یہ مسجد انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ یہاں نماز پُر امن ماحول میں ہو اور بغیرکسی سیاست کے ہو۔ جامع مسجد سری نگر ہمیشہ سے سرخیوں میں رہی ہے نہ صرف ایک مذہبی مرکز کے طور پر بلکہ یہاں پر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے تھے اور نماز جمعہ کے موقع پر خاص طور سے نعرہ بازی اور اس کے آس پاس پولیس اور پتھر بازوں کے بیچ جھڑپیں ایک معمول بن گئی تھیں۔

    دفعہ 370 کالعدم کئے جانے کے بعد سے جب ہر طرف جلسہ جلوس پر قدغن لگائی گئی تو اس مسجد کو لمبے عرصہ تک بند کیا گیا۔ اس کے بعد اکثر مسجد بند رکھی گئی۔ پچھلی بار انتظامیہ نے کووڈ کا حوالہ دے کر مسجد کو عوام کے لئے بند رکھا۔ حالانکہ کشمیر میں کووڈ کے مشکل حالات میں بھی بڑی بڑی عوامی تقاریب منعقد کروائی گئیں، لیکن جامع مسجد سری نگر مسلسل نمازیوں کے لئے بند رکھی گئی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: