உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jamia Masjid سرینگر لمبے عرصہ بعد کھولی گئیِ، میر واعظ مولوی عمر کو رہا کرنے کا مطالبہ

    Youtube Video

    مرکزی جامع مسجد سرینگر سلطان سکندر نے 1394میں تعمیر کروائی۔اپنے فن تعمیر کے لئے دنیا بھر میں مشہور جامع مسجد سرینگر میں ایک ساتھ 33ہزار 333 افراد ایک ساتھ نماز ادا کرسکتے ہیں۔

    • Share this:
    سرینگر: مرکزی جامع مسجد سرینگر کے ممبر و محراب آج مسلسل تیس جمعہ تک خاموش رہنے کے بعد اذان اور درود و اذکار سے گونج رہئے تھے۔ شب معراج النبی صلیٰ اللہ و علیہ وسلم کے بعد پہلے جمعہ کے موقعہ پر آخر کار جموں و کشمیر انتظامیہ نے جامع مسجد جمعہ نماز کے لئے کھولنے کی اجازت دیدی۔ اس بار جامع مسجد سب سے لمبے عرصہ کے لئے بند رکھی گئی کیونکہ پہلے 2019 میں دفعہ 370 کالعدم کئے جانے کے موقعہ پر جامع مسجد جمعہ نماز کے لئے بند کردی گئی۔ اس کے بعد مختصر عرصہ کے لئے مسجد کو کھولا گیا لیکن کووڈ حالات کی وجہ سے دوبارہ بند کردی گئی۔

    مسجد کھولے جانے پر لوگ کافی خوش تھے۔ عبد الرشید نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ آج کشمیری مسلمانوں کے لئے عید جیسا موقعہ ہئے۔ جامع مسجد سرینگر کشمیری مسلمانوں کے لئے مرکزی حثیت رکھتی کئے اور یہ بند ہونے کی وجہ سے انھیں کافی تکلیف ہوئی۔ عابد نامی ایک نوجوان نے سوال کیا کہ جب کووڈ حالات بہتر ہونے کے بعد کشمیر کے تقریباً تمام مذہبی مقامات کھولنے کی اجازت دیدی گئی پھر جامع مسجد سرینگر کو اتنی دیر بند رکھنے کا کیا مطلب؟ حالانکہ مرکزی جامع مسجد کو کھولنے کی اجازت کی خبر زیادہ لوگوں کو نہیں ملی تھی اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہاں جمعہ نماز کے لئے پہنچی۔

    کئی لوگ جامع مسجد کے ساتھ ساتھ اب میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق کی رہائی کا مطالبہ کر رہئے ہیں۔ عبدل احد نامی ایک بزرگ نے بتایا کہ جامع مسجد کے ممبر میر واعظ عمر کے انتظار میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میر واعظ عمر ایک سیاسی لیڈر کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی لیڈر بھی ہیں۔ میر واعظ اگست 2019 سے گھر میں نظر بند ہیں۔

    جموں کشمیر متحدہ مجلس علما بھی پچھلے کئی مہینوں سے میر واعظ کی رہائی کا مطالبہ کررہے کیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب جامع مسجد سرینگر بند کردی گئی ہو۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے لیکر 2008 اور پھر 2016 کی جمہوری حکومتوں نے بھی مسجد کو بند کروادیا تھا۔ اس بار کیا جاتا ہئے کہ جامع مسجد سرینگر سب سے لمبے عرصہ کے لئے بند رکھی گئی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: