உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں انتظامیہ نے چھ ہوٹلوں کووڈ کیئر سینٹر میں کیا تبدیل، Omricon کے خطرے کے پیش نظر بیرونی ممالک سے آنے والے مسافروں کی سخت نگرانی

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    محکمہ صحت اور انتظامیہ آپسی تال میل سے کئی ایسے اقدامات اٹھارہے ہیں جن سے اس وائرس کے نئے ویریئنٹ کو یہاں پھیلنے سے روکا جاسکے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر سرکار بھی کووڈ کے نئے ویریئنٹ Omicron کو یو ٹی میں پھیلنے سے روکنے کے لئے کوششوں میں لگ گئی ہے۔ محکمہ صحت اور انتظامیہ آپسی تال میل سے کئی ایسے اقدامات اٹھارہے ہیں جن سے اس وائرس کے نئے ویریئنٹ کو یہاں پھیلنے سے روکا جاسکے۔ جب سے افریقی ممالک میں یہ ویریئنٹ پایا گیا ہے تب سے اس بات کی پوری کوشش کی جارہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس سے محفوظ رہیں۔ اسی لئے جموں و سرینگر کے ساتھ ساتھ یو ٹی کے دیگر اضلاع میں محکمہ صحت کے اہلکاروں کو پھر ایک بار تیاری کی حالت میں رہنے کو کہا گیا ہے۔ اگر ہم جموں ضلع کی بات کریں تو پچھلے کئی روز سے یہاں کووڈ کیسوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور کل جموں ضلع میں کورونا کے بیس نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ سب سے فکر کی بات یہ ہے کہ جموں صوبے کے ریاسی ضلع میں کل کورونا کے 89 نئے کیس سامنے آئے ہیں اور یہ سبھی مریض ملک کی دیگر ریاستو ں سے ماتا ویشنو دیوی جی کے درشن کے لئے آئے تھے۔ ان مریضوں کا پتہ چلتے ہی ان سب کو دیگر لوگوں ے الگ رکھا گیا اور بعد میں انہیں اپنے اپنے آبائی علاقوں کو واپس بیج دیا گیا۔

    اسی طرح جموں کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی دن بدن کورونا معملے بڑھ رہے ہیں جسکی وجہ سے عام لوگ تو پریشان ہیں ہی سرکار بھی کافی فکر مند ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرکار اس بیماری کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔ ادھر جموں انتظامیہ نے ایک اہم فیصلے میں پورے جموں ضلع میں رات کے کرفیو کو جاری رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ کل ہی انتظامیہ نے ایک حکمنامہ جاری کرکے جموں کے چھ ہوٹلوں کو کووڈ کئیر سینٹر کے تحت مقرر کیا اور ان سینٹروں کا استعمال باہری ملکو ں سے آنے والے مسافروں کو کورنٹین کرنے کے ل ئے کیا جائے گا۔یہاں پر ایسے افراد کی پوری جانچ کرکے ہی انہیں اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔



    ان ہوٹلوں میں بس سٹینڈ میں واقع ہوٹل وویک، ریزڈینسی روڈ پر واقع ہوٹل پرئیمیر ریزڈینسی، ہوٹل لارڑس ان اور ہوٹل سٹی ٹاپ شامل ہیں اور ان چھ ہوٹلوں میں ایک ساتھ ایک سو تیس افراد کو رکھنے کی گنجائیش ہے۔نوڑل افسر کووڈ جموں ستیش کمار شرما کے مطابق جموں انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ جتنے بھی لوگ ہوائی راستے جموں پہنچیں ان کی پوری طرح سے جانچ کی جائے اور اگر کوئی مسافر کووڈ پازیٹو پایا جاتا ہے تو اسے فوری طور کورنٹین کیا جائے اور کورنٹین کی مدت مکمل ہونے کے بعد ہی ان لوگوں کو اپنے گھروں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ جموں ائیر پورٹ پر بھی محکمہ صحت کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور وہاں پہنچنے والے تمام یاتریوں کی جانچ ہو رہی ہے۔

    جموں انتظامیہ کی طرف سے اٹھا ئے گئے ان اقدامات کی یہاں کےلوگ سراہنا کر رہے ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ کووڈ کے نئے وئیرنٹ سے بچنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ جموں کے گاندھی نگر علاقے کے اشوک کمار شرما نے کہا کہ کووڈ کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران کافی جانیں ضایع ہوئیں اور اب اگر تیسری لہر آئی تو اس سے اور زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تالاب تلو میں رہنے والے گورمیت سنگھ نے کہا کہ افریقی ممالک میں پھیلا Omicron ویریئنٹ پوررے ہندوستان میں پھیل سکتا ہے ۔

    جموں انتظامیہ کی طرف سے اٹھا ئے گئے ان اقدامات کی یہاں کےلوگ سراہنا کر رہے ہیں۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ کووڈ کے نئے وئیرنٹ سے بچنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ جموں کے گاندھی نگر علاقے کے اشوک کمار شرما نے کہا کہ کووڈ کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران کافی جانیں ضایع ہوئیں اور اب اگر تیسری لہر آئی تو اس سے اور زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تالاب تلو میں رہنے والے گورمیت سنگھ نے کہا کہ افریقی ممالک میں پھیلا Omicron ویریئنٹ پوررے ہندوستان میں پھیل سکتا ہے ۔

    ایسے میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووڈ سے بچائو کی تمام تدابیر پر عمل کرتے رہیں تاکہ لوگ اس نئے ویریئنٹ سے بچے رہیں۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکار اپنا کام تو کررہی ہے لیکن عام لوگوں کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ ایسا کچھ نہ کریں جس سے بیماری کو دوبارہ پھیلنے کا موقع مل سکے۔ کل ملا کر اگر دیکھا جائے تو باہر سے آئےلوگوں کی جانچ کے لئے جموں ریلوے سٹیشن، بس سٹینڈ اور دیگر جگہوں پر بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔جموں انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے اور سبھی تیاریاں پہلے ہی کی جاچکی ہیں۔ ایسے میں امید ہے کہ عامف لوگ سرکار کے ساتھ تعاون کرکے محکمہ صحت کی طرف سے جاری ہدایات پر من و عن عمل کریں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: