ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں۔کشمیر: خستہ حال جموں سرینگر قومی شاہراہ اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات

نیوز 18 اردو نے نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے شاہراہ کی خستہ حالی اور تشویشناک طور سے بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کو لیکر بات کی تو انہوں نے بتایا۔ قومی شاہراہ کی خستہ حالی اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے نیشنل ہائے وے اتھاڑتی آف انڈیا کو رامبن بانہال کے درمیان جیالوجی سروے آف انڈیا کے زریعے از سر نو سروے کرانے کے ساتھ ساتھ یکطرفہ ٹریفک کو زمینی سطھ پر لاگوں کرنے سمیت رات کے وقت شاہرا پر ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا کام جلد از جلد کرنا ہوگا۔

  • Share this:
جموں۔کشمیر: خستہ حال جموں سرینگر قومی شاہراہ اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات
نیوز 18 اردو نے نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے شاہراہ کی خستہ حالی اور تشویشناک طور سے بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کو لیکر بات کی تو انہوں نے بتایا۔ قومی شاہراہ کی خستہ حالی اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے نیشنل ہائے وے اتھاڑتی آف انڈیا کو رامبن بانہال کے درمیان جیالوجی سروے آف انڈیا کے زریعے از سر نو سروے کرانے کے ساتھ ساتھ یکطرفہ ٹریفک کو زمینی سطھ پر لاگوں کرنے سمیت رات کے وقت شاہرا پر ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا کام جلد از جلد کرنا ہوگا۔

ملک کو وادی کے ساتھ ملانے والا اہم زمینی راستہ جموں سرینگر قومی شاہراہ کا سب سے مشکل ترین حصہ ضلع رامبن کا مانا جارہا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے نہایت ہی سست رفتار سے شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے والے پروجیکٹ پر تعمیراتی کام کے دوران نجی ٹھیکدار کمپنیوں کی جانب سے ناتجربہ کاری اور انجینئرنگ کے بنا ہورہی بے جا کٹائی، پہاڑیوں کو کاٹنے کا نہ رکنے والا سلسلے تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے ہورہی  بلاسٹنگ،کی وجہ سے ہر مہینے کئی کئی دن شاہراہ  مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے بند رہنے سمیت اس وقت شاہراہ کا سفر خطرے والا سفر بن چکا ہے۔ شاہراہ پر حادثات کا نہ رکنے والا سلسلہ مسلسل جاری ہے جموں سرینگر قومی شاہراہ ضلع رامبن میں یقینی طور سے خونی شاہراہ کے نام میں تبدیل ہورہی ہے۔


گزشتہ ایک دہائی میں جموں سرینگرقومی شاہراہ پر ضلع رامبن کے اندر پیش آئے سڑک حادثات کی تفصیل

1

سال 2010 حادثات 349 اموات 94 زخمی 529

2.

سال 2011 حادثات 368 اموات 119 زخمی 572

3.

سال 2012 حادثات 349 اموات 119 زخمی 529

4.

سال 2013 حادثات 271 اموات 58 زخمی 350.

5.

سال 2014 حادثات 255 اموات 92 زخمی 400.

6.

سال 2015 حادثات 262 اموات 61 زخمی 349.

7.

سال 2016 حادثات 243 اموات 84 زخمی 314.

8.

سال 2017 حادثات 211 اموات 71 زخمی 283.

9.

سال 2018 حادثات 268 اموات 79 زخمی 336.

10.

سال 2019 حادثات 266 اموات 91 زخمی 298.


جموں سرینگر قومی شاہراہ ناشری ٹنل سے جواہر ٹنل کے درمیان کا پورا حصہ نہایت ہی مشکل ترین پہاڑیوں کو کاٹ کر بنایا جارہا کچی مٹی کھسکھنے والے پہاڑوں کی نوعیت کو جانے بغیر جاری چار گلیاروں والی سڑک بنانے کا پروجیکٹ تعمیراتی کمپنی گیمن انڈیا اور ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی کی لاپرواہی ، کام کے مزید نجی کاری کرنے اور ن اہل ٹھیکداروں کو محض پیسے ہونے کی اہم وجہ سے کام دینے کی خود غرضی کی وجہ سے وجہ سے سڑک کی خستہ حالی میں  مزید اضافہ ہوا۔ شاہراہ پر خونی رقص جاری ہے۔ تاہم ضلع انتطامیہ ان اموات کو قدرتی اموت کہ کرخود کو درکنار کر کے کمپنیوں کو خوش کرنے کیلئے ضلع میں منعقد تقریبات میں رامبن بھی این ایچ اے اور تعمیراتی کمپنیوں کو  اعزاز سے نوازنے میں مصروف نظر آرہی ہے۔ جس پر عوام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے کے پروجیکٹ پر اہم نکات پر غور وخوض نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے قومی شاہراہ اس وقت موت کا کنواں بنا ہوا ہے قومی شاہراہ کا  ضلع رامبن کا زیادہ تر حصہ مشکل پہاڑیوں سے گزرتا اور تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے غیر معیاری طریقے سے کیا جارہا کام اور تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے کام کو مزید نجی کرن کی وجہ سے ناتجربہ کار ٹھیکداروں کی ناقص کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہےہیں۔

نیوز 18  اردو نے نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے شاہراہ کی خستہ حالی اور تشویشناک طور سے بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کو لیکر بات کی تو انہوں نے بتایا۔ قومی شاہراہ کی خستہ حالی اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے نیشنل ہائے وے اتھاڑتی آف انڈیا کو رامبن بانہال کے

درمیان جیالوجی سروے آف انڈیا کے ذ ریعے از سر نو سروے کرانے کے ساتھ ساتھ یکطرفہ ٹریفک کو زمینی سطھ پر لاگوں کرنے سمیت رات کے وقت شاہرا پر ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا کام جلد از جلد کرنا ہوگا۔

نجی ٹھیکداروں پر نکیل کسنے میں ناکام انتطامیہ کو چاہیے کہ وہ  نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے افسران کی رامبن میں موجودگی کو یقینی بنائے تاکہ جاری تعمیراتی کام کی سخت نگرانی کی جاسکے اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کی وجہ سے جاری خونی کھیل کو روکا جاسکے۔


Published by: sana Naeem
First published: Apr 21, 2020 09:37 AM IST