உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir : سال 2017 سے لے کر اب تک دہشت گردانہ حملوں میں 125 پولیس اہلکار ہوئے شہید

    Jammu and Kashmir : سال 2017 سے لے کر اب تک دہشت گردانہ حملوں میں 125 پولیس اہلکار ہوئے شہید

    Jammu and Kashmir : سال 2017 سے لے کر اب تک دہشت گردانہ حملوں میں 125 پولیس اہلکار ہوئے شہید

    دسمبر 2017 سے اب تک جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) میں ملی ٹینسی سے متعلق واقعات میں 47 پولیس کانسٹیبلوں اور 24 اسپیشل پولیس افسران سمیت کم از کم 125 پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق پولیس کے کانسٹیبل اور سینئر گریڈ کانسٹیبل متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد پر مشتمل ہے ، جو پچھلے پانچ سالوں میں جموں و کشمیر میں مختلف دہشت گرد حملوں میں گولیوں کا نشانہ بنے تھے ۔

    • Share this:
    جموں : دسمبر 2017 سے اب تک جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) میں ملی ٹینسی سے متعلق واقعات میں 47 پولیس کانسٹیبلوں اور 24 اسپیشل پولیس افسران سمیت کم از کم 125 پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق پولیس کے کانسٹیبل اور سینئر گریڈ کانسٹیبل متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد پر مشتمل ہے ، جو پچھلے پانچ سالوں میں جموں و کشمیر میں مختلف دہشت گرد حملوں میں گولیوں کا نشانہ بنے تھے ۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ، چار انسپکٹر، پانچ سب انسپکٹر، چھ اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 24 سینئر گریڈ کانسٹیبل اور 47 کانسٹیبل 2017 سے جموں و کشمیر میں مختلف دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہوئے۔ جب کہ 2018 میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 46 تھی۔

    ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے 2017 میں 32 پولیس اہلکار، 2018 میں 46 پولیس اہلکار اور 2019 میں 11 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2020 میں 16 پولیس اہلکار جبکہ 21 میں 20 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ 29 اگست 2018 کو سب سے خطرناک ملی ٹینٹ حملہ ہوا تھا ۔ اس حملے میں چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے ۔ پولیس اہلکار اپنی گاڑی کی مرمت کیلئے ضلع شوپیاں میں ارحامہ فروٹ منڈی کے قریب ایک آٹوموبائل ورکشاپ پر گئے تھے ، لیکن دہشت گردوں نے ان پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

    اس سے قبل جنوری 2018 میں بارہمولہ ضلع کے سوپور علاقے میں ایک آئی ای ڈی حملے میں چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ سال 2021 میں پولیس پر سب سے بڑا حملہ 14 دسمبر کو زیوان میں آرمڈ پولیس بٹالین کی گاڑی پر کیا گیا تھا جس میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔ اس مہینے میں 11 دسمبر کو شمالی ضلع بانڈی پورہ میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت اور 23 دسمبر کو بجبہارہ حملے میں ایک اے ایس آئی محمد اشرف کو بھی ایک حملے میں شہید کیا گیا تھا ۔

    جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ اب ملی ٹینٹ بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ہیں اور اب وہ نہتے لوگوں نشانہ بنارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا جن ملی ٹینٹوں نے ابھی تک پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا تھا ، ان میں اکثر ملی ٹینٹوں کو مار دیا گیا ہے اور جو ابھی سرگرم ہیں ، انہیں بھی جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا ۔ جیسے حال ہی میں بجبہاڑہ میں شہید ہوئے اے ایس کے قاتل کو حال ہی میں ایک انکاونٹر میں مار گرایا گیا ہے ۔

    انہوں بتایا کہ پولیس نے ان دہشت گردوں کی ایک لسٹ تیار کی ہے اور آئے روز انہیں مختلف آپریشنوں میں ختم کیا جار ہا ہے ۔ پولیس نے اپنی کارروائی میں تیزی لے کر آئی ہے ۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: