உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     جموں وکشمیر: 2020 سے لےکراب تک 182شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار مارے گئے : وزارت داخلہ کا بیان

    مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جاری شورش کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے ملیٹینسی سے منسلک واقعات کو لے کر کہا کہ 2020 اور 2021 میں ملیٹینسی سے منسلک واقعات میں 182 شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔

    مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جاری شورش کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے ملیٹینسی سے منسلک واقعات کو لے کر کہا کہ 2020 اور 2021 میں ملیٹینسی سے منسلک واقعات میں 182 شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔

    مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جاری شورش کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے ملیٹینسی سے منسلک واقعات کو لے کر کہا کہ 2020 اور 2021 میں ملیٹینسی سے منسلک واقعات میں 182 شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جاری شورش کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے ملیٹینسی سے منسلک واقعات کو لے کر کہا کہ 2020 اور 2021 میں ملیٹینسی سے منسلک واقعات میں 182 شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔

    ملیٹینسی سے منسلک ایک تحریری جواب میں، مرکزی وزارت داخلہ  نے کہا کہ 2020 اور 2021 میں ملیٹینسی سے متعلق 437 واقعات رپورٹ ہوئے۔ وزارت نے کہا کہ ان دو سالوں میں، 104 سیکورٹی فورسیز کے اہلکار اور 78 شہریوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس سلسلے میں 2020 میں ملیٹینسی سے متعلق 244 واقعات رونما ہوئے، جن میں 62 سیکورٹی فورسیز کے اہلکار اور37 عام شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ سال 2021 میں ملیٹینسی سے متعلق 229 واقعات رونما ہوئے، جن میں سیکورٹی فورسیز کے 42 اہلکار اور41 عام شہری مارے گئے۔
    وزارت داخلہ نے مزیدکہا کہ جموں وکشمیر میں انتخابات کے شیڈول کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہے۔ وزارت داخلہ کےمطابق، حکومت نے ایک حد بندی کمیشن تشکیل دی تھی، جس نے 14 مارچ، 2022 اور 5 مئی، 2022 کو جموں وکشمیر کے مرکز کے زیرانتظام علاقے کے پارلیمانی اور قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی حد بندی سے متعلق احکامات کو عام لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کے بعد، ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے جموں وکشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے رائے دہندگان کی انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی شروع کی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Exclusive: پاکستان نے ‘مشن کشمیر‘ کے لئے پھر بنایا دہشت گرد گروپ، ریٹائر ISI آفیسر کا انکشاف

    جواب میں کہا گیا کہ انتخابات کے شیڈول کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا استحقاق ہے۔ ایسے میں جب حد بندی کا کام مکمل ہو گیا ہے، اب یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا پر منحصر ہے کہ جموں کشمیر میں الیکشن کب کرائے۔

    واضح رہےکہ سال 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر کی ریاست سے لداخ کو الگ کرکے علحیدہ یوٹی کا درجہ دیا گیا تھا جبکہ جموں وکشمیر کو بھی یوٹی بنا دیا گیا تھا۔ اس وقت مرکزی سرکار نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جموں وکشمیر میں حالات کی بہتری کے ساتھ ہی واپس ریاست کا درجہ بحال پوگا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: